اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 76
روحانی خزائن جلد۴ ۷۶ مباحثہ لدھیانہ ۷۴) انہوں نے بالفرض ظاہر کیا ہو خواہ دل میں رکھا ہو ) ابن صیاد دجال موعود ہے روک دیا اور بناء علیہ اس کے قتل سے منع کر دیا۔ اس قول نبوی کے کتب احادیث میں موجود ہونے کے ساتھ یہ کہنا کہ آنحضرت نے حضرت عمر کے ابن صیاد کو دجال موعود کہنے یا مجھنے پر سکوت کیا اسی شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس بیان سے صاف ثابت ہے کہ آپ نے جو کچھ اس باب میں لکھا ہے وہ فن حدیث اصول لکھا ہے وفن حدیث فقه علم معانی و بیان وادب وغیرہ سے ناواقتھی پر مبنی ہے۔ (۸) آپ لکھتے ہیں کہ کسی کو کسی بات کا قائل ٹھہرانا تصریح پر موقوف نہیں اس امر کی نسبت اس کے اشارات پائے جانے سے بھی اس کو قائل بنایا جاتا ہے۔ آنحضرت کا ایک مدت طویل تک ابن صیاد کے دجال ہونے سے ڈرتے رہنا احتمال امر نہیں۔ آنحضرت نے زبان سے ڈر سنایا ہوگا تب ہی صحابی نے لم یزل کا لفظ فرمایا آنحضرت اور کبھی انبیاء دجال سے ڈراتے آئے ہیں۔ ایک شخص کا دس برس سے دہلی کی طیاری کرنا کوئی بیان کرے تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس شخص نے دہلی جانے کا ارادہ کبھی زبان سے بتایا ہوگا۔ اور اگر یہی احتمال مسلم ہو کہ آنحضرت کے حالات سے ان کا ڈرنا صحابی نے اس کا ڈرنا سمجھ لیا تھا تو یہ بھی احتمال ہے کہ زبان سے سنا ہو اور لفظالم یزل سے یہ احتمال قوی ہوتا ہے۔ اس صورت میں آپ کا مجھ کو مفتری کہنا بے جا ہے۔ اس سے آپ کا افتراء سابق اور پختہ و متیقن ہوتا ہے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے جو پہلے کہا تھا وہ خطاء نہیں کہا عمداً افتراء کیا ہے اور اس پر آپ کو اب تک ایسا اصرار ہے کہ جتانے سے بھی باز نہیں آتے اور اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے محدثین نے بیان کیا ہے کہ جو شخص روایت حدیث میں غلطی پر متنبہ کیا جاوے اور پھر اس سے باز نہ آئے وہ ساقط العدالت ہو جاتا ہے۔ آپ کا یہ کہنا کہ اشارات سے بھی ایک شخص کو ایک امر کا قائل بنایا جا تا ہے تب آپ کے حق میں مفید ہو جب کہ صحابی آنحضرت کو اس قول کا قائل بناتا جس کا قائل آنحضرت کو آپ نے بنا دیا ہے صحابی نے آنحضرت کو قائل قول مذکور نہیں بنایا بلکہ اپنا خیال بیان کیا ہے تو پھر اس کہنے سے آپ کو کیا فائدہ ہے کہ اشارات سے بھی قائل بنایا جاتا ہے آ نحضرت کی طرف کسی قول کو منسوب کرنا اسی صورت و پیرا یہ میں حلال ہے جس صورت