اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 74
روحانی خزائن جلد ۴ ۷۴ مباحثہ لدھیانہ ۷۲ قال قلت كذبتني والله لقد اخبرني بعضكم انه لايموت حتى يكون اكثر مالا وولدا فذالك هو زعم اليوم یعنی حضرت ابن عمر نے کہ میں نے بعض لوگوں کو ( جن سے ان کے معاصر اصحاب مراد ہیں ) کہا کہ کیا تم کہتے ہو کہ ابن صیاد دجال ہے تو وہ بولے بخدا ہم نہیں کہتے میں نے کہا تم مجھے جھوٹا کرتے ہو بخدا تم ہی سے بعض نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ دجال صاحب اولاد ہو کر مرے گا اور اب وہ ( ابن صیاد ) ایسا ہی صاحب اولاد ہے یہ قول ابن عمر اس امر پر نص صریح ہے کہ ابن صیاد کو اور لوگ حضرت ابن عمر کے معاصر دجال نہیں جانتے ہیں اور ان کے سامنے ان کی رائے سے خلاف ظاہر کرتے تھے۔ صرف حضرت ابن عمر ہی کا یہ ایسا قول تھا کہ جس میں ابن صیاد کو دجال موعود بلفظ مسیح الدجال کہا گیا ہے کیونکہ جابر وحضرت عمر کے قول سے یہ تصریح نہیں ہے کہ وہ دجال موعود ہے بلکہ انہوں نے ابن صیاد کو صرف دجال کہا ہے جس سے مجملہ میں ۳۰ د جالوں کے ایک دجال مراد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ عنقریب اس کا ثبوت آتا ہے اور جب کہ حضرت ابن عمر کے صریح قول پر انکار مانا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر خلاف کے تصریح آپ کیا چاہیں گے ۔ آپ کے حواری حکیم نورالدین نے ہمارے سوال نمبری ۲۱ کے جواب میں اس اختلاف کو تسلیم کیا اور یہ کہا ہے کہ دجال کی نسبت مختلف خیال ہیں۔ آپ نے بڑا غضب ڈھایا کہ ابن صیاد کے دجال ہونے پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر لیا اپنے حواری سے تو مشورہ کر لیا ہوتا آخر میں جو آپ نے قول فاروقی پر آنحضرت صلعم کے سکوت کرنے کا دعویٰ کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو آنحضرت کے سامنے ابن صیاد کو دجال کہا اور اس پر قسم کھائی تھی اس میں یہ تصریح علمی ہے کہ ابن صیاد ہی وہ دجال ہے جس کے آنے کی آنحضرت نے علامات خاصہ بیان کر کے خبر دی تھی اور جملہ انبیاء سابقین نے اپنی امت کو ڈرایا تھا لہذا ممکن و محتمل لے ہے کہ حضرت عمر کے اس قول سے یہ مراد ہو کہ ابن صیاد منجملہ ان تمین دجالوں کے ہے جن کے خروج کی آنحضرت نے خبر دی ہے اس صورت میں آنحضرت کا سکوت آپ کیلئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ یہ سکوت ابن صیاد آخری دجال کہنے پر نہ ہوا بلکہ کوئی اور دجال منجملہ دجاجلہ ملاعلی قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں کہا ہے ۔ قبل لعل عمر اراد بذالک ان ابن صیاد من الدجالين الذين يـ رجون فيدعون کے حاشیه ناظرین ! ممکن محتمل کا لفظ قابل غور ہے! ایڈیٹر