اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 67
۶۷ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ ہونے کا امام بخاری کو قائل قرار دیا ہے انہوں نے اس حدیث کی روایت کو ترک کیا تو اس سے مجھے (۶۵) معلوم ہوا کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھا ہے جس کو موضوع ہونے سے کوئی تعلق نہیں اس قول میں ایک تو آپ نے دھوکہ دیا ہے دوسرا اپنی نا واقعی کا اظہار کیا ہے۔ دھو کہ یہ کہ یہاں آپ ضعیف اور موضوع میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ آپ کے نزدیک جو حدیث موافق قرآن نہ ہو وہ موضوع ہے اور کلام رسول ہونے سے خارج نہ اور قسم کے ضعیف یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے پر چہائے نمبر میں ایسی حدیثوں کو بھی موضوع کہتے ہیں بھی غیر صحیح وضعیف جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کی اصطلاح میں موضوع وضعیف ایک ہے اور صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کو بھی آپ قرآن کریم کے مخالف سمجھتے ہیں اور رسالہ ازالہ میں اس کی وجوہ مخالفت بڑے زور سے بیان کر چکے ہیں لہذا وہ آپ کے نزدیک موضوع ہے نہ اور قسم کی ضعیف۔ یہاں آپ اس اعتقاد کو جتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس نا واقفی کا آپ نے اظہار کیا ہے وہ یہ ہے کہ روایت صحیح مسلم کو امام بخاری کے ترک کرنے سے آپ نے یہ اجتہاد کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے صحیح سمجھتے تو وہ اس کو ضرور اپنی کتاب میں لاتے۔ یہ بات وہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی بھی گذر نہ ہوا ہوگا ۔ امام بخاری نے بہت سی احادیث صحیحہ کو اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا اور یہ فرما دیا ہے کہ میں نے ان کو بخوف طوالت ترک کر دیا ہے ۔ صحیح بخاری کے مقدمہ میں ہے وروى من جهات عن البخارى قال صنفت كتاب الصحيح بست عشر سنة اخرجته من ستة مأية الف حديث وجعلته حجة بيني و بين الله - وروى عنه قال رأيت النبي صلعم في المنام وكأني واقفت بين يديه وبيدى مروحة اذب عنه فسألت بعض المعبرين فقال انت تذب عنه الكذب فهو الذي حملني على اخراج الصحيح۔ وروى عنه قال ما ادخلت في كتاب الجامع الا ماصح و تركت كثيرا من الصحاح لحال الطول ۔ امام بخاری پکڑ رکھا ہے۔ کہیں قرآن کے سوا کسی اور کتاب یا مجموعہ کی نسبت فاتـو بـســورة من مثلہ کہا گیا ہے؟ وہ کلام جس کا لٹریچر غیر متلو ہو اور مختلف مونہوں کے سانسوں سے مشوب ہو کر دائر وسائر ہوا ہو بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔ جانے دو ناحق کی ضد کو ۔ ایڈیٹر بقیه حاشیه حاشیه حاشیه اس سوئے ادب اور افترا کا جو امام ہمام بخاری کی نسبت اس نادان دوست نے کیا ہے حضرت مرزا صاحب کا جواب بڑی غور سے ملاحظہ ہو۔ مولوی صاحب آپ نے بخاری کو دین کے ایک کثیر صحیح حصہ کا عمداً تارک قرار دیا ہے! كبرت كلمة تخرج من افواههم۔ الآیة المی ان دوستوں سے بچائیو ۔ ایڈیٹر مولوی صاحب! ان منقولات کو جن پر حقیقۂ حضرت امام بخاری کی کوئی مہر یا دستخط نہیں۔ کون بے ادب