اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 62
روحانی خزائن جلد ۴ ۶۲ مباحثہ لدھیانہ ۶۰ جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لا وے تو تم اس کی تفتیش کرو۔ یہ دلیل بھی آپ کی نا واقعی پر ایک دلیل ہے۔ احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں اور ان کی عدالت ثابت و محقق ہو چکی ہے۔ اس نظر سے ان کتابوں کی احادیث اتفاق اہل اسلام کے ساتھ صحیح تسلیم کی گئی ہیں۔ امام ابن حجر مقدمہ فتح الباری میں فرماتے ہیں۔ ینبغی لكل منصف ان يعلم ان تخرج صاحب الصحيح لاى راوى كان مفــض لعدالته عنده وصحة ضبطه وعدم غفلته ولا سيما الى ذلك من اطلاق جمهور الائمة على تسمية الكتابين بالانصاف بالصحيحين و هذا المعنى لم يحصل بغير من خرج عنه في الصحيحين فهونهاية اطباق الجمهور على تعديل من ذكر فيهما هذا اذا اخرج له فى الاصول فاما ان اخرج في المتابعات والشواهد والتعاليق فهذا يتفاوت درجات من اخرج له فى الضبط وغيره مع حصول اسم الصدق لهم وحينئذ اذا وجد نالغيره في احد منهم طعنا فذالك الطعن مقابل للتعديل لهذا الامام فلا يقبل الامبين السبب مفتقرا بقادح يقدح في عدالة هذا الراوي و في ضبطه مطلقا او فى ضبطه الخبر بعينه لان الاسباب الحاملة للائمة على الجرح متفاوتة منها ما يقدح و منها ما لا يقدح وقد كان الشيخ ابو الحسن المقدسي يقول في الرجل الذي يخرج عنه في الصحيح هذا جاز القنطرة يعنى بذالک انه لا يلتفت الى ماقيل فيه قال الشيخ ابو الفتح القشيري في مختصره وهكذا معتقد و به اقول و لا يخرج عنه الالحجة ظاهرة و بيان شاف يزيد في غلبة الظن على المعنى الذي قدمناه من اتفاق الناس بعد الشيخين على تسمية كتابيهما بالصحيحين و من لوازم ذلك تعديل رواتها قلت فلا يقبل الطعن في احد منهم الابقادح واضح ۔ اس کے مقابلہ میں جو آپ نے لکھا ہے کہ امکانی طور پر صدور کذب وغیرہ ذنوب ہر ایک سے بجز نبی کے ممکن الوقوع ہے یہ آپ کی ناوا پ کی نا واقعی پر ایک اور دلیل ۔ بل ہے آپ یہ نہیں جانتے کہ روایت اور شہادت کا حکم دت کا حکم ایک ہے جس میں فعلی صدور کذب مانع قہ رب مانع قبول و اعتبار ہے نہ امکا ہے نہ امکانی اور اگر امکانی کذب بھی مانع قبول و اعتبار ہوتا تو خدا تعالیٰ کسی گواہ کی شہادت بجز نبی معصوم قبول نہ کرتا اور نہ عدالت شہود کا نام لیتا اور مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دیتا وَاشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُمْ لا یعنی دو گواه عادل گواہ بناؤ اور نہ فرماتا مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ کے یعنی ان لوگوں کو گواہ بناؤ جن کو پسند کرو۔ یعنی بلحاظ عدل ان کے واستقامت کے اچھا سمجھو بلکہ صاف یہ فرمایا کہ ہر معاملہ میں نبی معصوم کو گواہ کر لیا کرو کیونکہ امکان کذب وغیرہ ذنوب بقول آپ کے بجز نبی معصوم کے ہر ایک گواہ میں موجود ہیں اور امید ہے کہ بات آپ بھی نہ کہیں گے کہ امکان کذب کی نظر سے شہادت بجز نبی معصوم کسی کی مقبول نہیں۔ ا الطلاق : ٣ ٢ البقرة : ۲۸۳