اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 324

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۴ الحق مباحثہ دہلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل ہے اور یہ ثابت ہو چکا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور کلی مشلک کے اعلیٰ درجہ کا یہ وصف حاصل ہے اندریں صورت آیہ مذکورہ ایک خفی اشارہ اس اتحاد مجازی پر بھی کرتی ہے۔ آفتاب اور ستاروں کا وجود دو وجود ہیں لیکن روز روشن میں سوائے وجود آفتاب کے دوسر او جو دستاروں کا موجود ہی نہیں۔ شیخ بوستان لکھتا ہے ؎ ر و عقل جزی در یی نیست بر عارفان جز خدا بیچ نیست تو ان گفتن این با حقایق شناس ولے خوردہ گیرند اہل قیاس الی قولہ۔ ولے اہل صورت کجا پے برند که ارباب معنے بہ ملکے درند که گر آفتاب ست یک ذره نیست وگر هفت دریاست یک قطره نیست چو سلطان عزت علم بر کشد جهان سربجیب عدم در کشد الی قولہ۔ مگر دیده باشی که در باغ و راغ بتا بد بشب کر کے چوں چراغ یکے گفتش اے کر مک شب فروز چه بودت که بیرون نیائی بروز ببین کاتشین کرمک خاک زاد جواب از سر روشنائی چه داد که من روز و شب جز بصحر انیم ولے پیش خورشید پیدا نیم اگر آپ کہیں کہ اقوال شیخ بوستان سے مسائل مہمہ میں یہ کیسا استناد ہے تو جواب یہ ہے کہ اس اتحاد مجازی کے ثبوت میں مولوی محمد حسین صاحب نے ایک بہت عمد و فقل لکھی ہے۔ شيخ محي الدين ابن عربی کی کتاب سے غاية الوصلة ان يكون الشيء عين ما ظهر و لا يعرف كما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم و قد عانق ابن حزم المحدث فغاب احدهما في الأخر فلم نر الا واحدا و هو رسول الله صلى الله عليه وسلم فهذه غاية الوصلة وهو المعبر عنه بالاتحاد و لنعم ما قيل جذبہ شوق بحدیست میان من و تو که رقیب آمد و نه شناخت نشان من و تو