اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 319

روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۹ الحق مباحثہ دہلی کیوں شرک ہوتی یہ تو کمال مقتضائے ایمان ہے پھر اگر اس درجہ کمال ایمان پر مرزا صاحب پہنچے ہوئے ہوں تو اس میں کون سا امر خلاف کتاب وسنت کے ہے مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے تفسیر فوز الکبیر میں لکھا ہے کہ اگر ہم تسلیم کر لیں کہ انا جیل میں لفظ ابن اللہ آیا ہے تو واضح ہو کہ معنے لفظ ابن کے زمان قدیم میں محبوب اور پیارے کے آئے ہیں اور یہی معنے محاورات انجیل سے معلوم ہوتے ہیں انتہی حاصلہ۔ اسی طرح پر حضرت مرزا صاحب کو مراتب ثلاثہ قرب الہی کے مکشوف ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ مرتبہ ہے کہ بطور استعارہ تمثیل کے اُس مرتبہ کو علاقہ اہنیت سے تعبیر کر سکتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ مخلوق میں سے کسی کو مرتبہ ابنیت کا حقیقتاً حاصل ہو۔ نعوذ باللہ منہ۔ اگر آپ کہیں کہ ہم کو کتاب وسنت سے اس مرتبہ کا پتہ اور نشان بتلاؤ تب ہماری پوری تسکین ہوگی واذ لا فلا ۔ لیجئے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكرًا جب تک کہ یہ حالت جو او پر مذکور ہوئی تقاضائے ایمان کامل سے حاصل نہ ہوتو کیونکر ایسا ذ کر الہی آدمی کر سکتا ہے جیسا آیت میں مذکور و مامور ہے اور جیسا کہ آیت میں کاف حرف تشبیہ کا موجود ہے۔ حضرت مرزا صاحب نے بھی جا بجا لفظ استعارہ وغیرہ الفاظ مجاز کا استعمال کیا ہے جو ویسا ہی آیت میں بھی مذکور ہے پھر اُسی آیت کی تفسیر حضرت مرزا صاحب نے کی ہے اور پھر طبرانی کی حدیث میں حرف تشبیہ تک نہیں ہے۔ الخلق كلهم عيال الله و احبهم اليه انفعهم لعیالہ اے میرے دوست اولیاء اللہ کا کوئی کلام جس پر اُن کو اصرار ہوا ایسا نہیں ہوتا جو کتاب وسنت سے مستنبط نہ ہولیکن اس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا اور مخالف رہتا ہے الناس اعداء لما جهلوا - البتہ استنباط والے لوگ ہی اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ قال الله تعالى لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُوْنَه اعتراض دوم۔ آپ کا یہ ہے کہ مرزا صاحب کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم البقرة: ٢٠١ النساء : ۸۴