اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 318
روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۸ الحق مباحثہ دہلی مثیل وہ سب ایک ذرہ امکان ہیں جس کا ہونا نہ ہونا برا بر ہے بقول شاعرے آنکس که اولش عدم و آخرش فنا است + در حق او گمان ثبات و بقا خطا است اسی واسطے اس ذرہ امکان کو فرمایا کہ وہ تو اپنی ذات میں بالکل بالک اور فانی ہے كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجُهَهُ ۔ پھر آگے فرمایا کہ اس کی حقیقت ہی محض باطل ہے۔ الا كل شي ما خلا الله باطل جبکہ اس ذرہ کی یہ حقیقت ٹھہری کہ وہ اپنی حقیقت میں ہی باطل ہے تو ایسی ذات کے ساتھ جو سب سے اعلیٰ ہے اور واجب الوجود ہے کیونکر کسی بات یا صفات میں شریک و برابر ہو سکتا ہے اب آپ کو مرزا صاحب کا عقیدہ تو اُسی رسالہ توضیح المرام سے معلوم ہو گیا اور یہی عقیدہ ہمارا اور آپ کا ہے۔ اب اس قدر گزارش اور ہے کہ جو نسبتیں اور حالتیں عارفین اولیاء اللہ پر وارد ہوتی ہیں اُن کو ہم پورے پورے طور پر نہیں سمجھ سکتے ۔ کہ ولی راولی می شناسد مثل مشہور ہے مگر بطور نمونہ ایک حالت جو مجھ پر اور آپ پر اور سب پر طاری ہوئی ہے یا ہوتی ہے میں اس کو یاد دلاتا ہوں۔ جب آپ حالت طفولیت میں زیر تربیت اپنے والدین کے تھے تب اپنے والدین پر آپ کو سب طرح سے اطمینان تھا۔ نہ آپ کو کھانے کی فکر تھی۔ نہ آپ کو لباس کی فکر تھی۔ نہ آپ کو کسی دشمن کی فکر تھی اور جملہ امور میں رجوع آپ کی اپنے والدین ہی کی طرف رہتی تھی حتی کہ اگر والدہ نے کبھی آپ کو مارا بھی ہوگا تو بھی آپ نے والدہ ہی کی طرف رجوع کیا ہوگا۔ مثل مشہور ہے کہ ماں مارے لڑکا ماں ہی ماں پکارے یہ حالت تو آپ کی ہوئی۔ اب اپنے والدین کی حالت کو (۱۸۶) دیکھئے۔ ان کی شفقت اور محبت کا کچھ ذکر ہی نہیں دنیا بھر کی خوبی وہ آپ ہی کے واسطے چاہتے ہیں اور آپ کے دشمن کو اگر ان کا قابو چلتا تو نیست و نابود ہی کر ڈالتے اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کسی مومن کی حالت تو کل اپنے رب معبود کے ساتھ بلا تشبیہ مجاز ایسی ہی ہو جیسا کہ آپ کو اپنے والدین مربی کے ساتھ تھی اور سب طرح سے آپ کو اپنے والدین مربی پر اطمینان تھا تو کیا یہ حالت بھی شرک یا کفر ہے۔ آپ ضرور فرمادیں گے کہ یہ حالت