اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 310
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۱۰ الحق مباحثہ دہلی مولوی محمد احسن صاحب کا جواب بسم الله الرحمن الرحیم از عاجز سید محمد احسن بخدمت بو به شاه و محمد الحق صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دو خط آپ کے صادر ہوئے حال یہ ہے کہ رسائل اعلام الناس اب تقسیم مفت میں باقی نہیں رہے پچاس جلد اس احقر کو ملی تھیں وہ سب تقسیم ہو گئیں ۔ اور لاہور میں چند اشخاص کے پاس یہ رسائل پہنچ گئے ہیں۔ آپ کسی سے خرید فرما لیجئے اور نسبت اشعار مندرجہ توضیح مرام کے جو خدشات آپ نے تحریر فرمائے ہیں وہ بہ سبب عدم غور اور تامل کے ہیں ۔ شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میان افتاد میم اول تو ان اشعار کا مطلب اور شرح خود حضرت اقدس نے سیاق اور سباق اشعار میں ۱۸۰ مفصل اور مشرح کر کر لکھ دی ہے کہ جس کے مطالعہ سے مخلصین کو کسی طرح کا خدشہ اور شبہ باقی نہیں رہتا ۔ آپ اس مقام کو مطالعہ فرماویں اور اگر صرف لا تقربوا الصلوة پر نظر رہے گی تو شکوک و شبہات کیونکر رفع ہو سکتے ہیں۔ ثانیاً ان آیات کے کیا معنی ہیں۔ دنا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ، وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ و غير ذلك من الآيات الكثيرة ـ جو معنى ان آيات کے آپ سمجھیں ان اشعار کو تفسیر اس کی تصور فرماویں۔ ثالثا ان اشعار میں کوئی خدشہ ظاہری بھی نہیں معلوم ہوتا حاصل مطلب یہ ہے کہ رتبہ و درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے خدائے کریم کے کوئی نہیں جان سکتا۔ آنحضرت کے رتبہ اعلیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے کسی ادنی ولی کا النجم : ١٠٩ الانفال : ۱۸ النجم : ۵۴ الفتح :