اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 306
روحانی خزائن جلدم ۳۰۶ الحق مباحثہ دہلی یہ ہے کہ آپ نے نہ صرف ایک تفسیر ابن جریر کی عبارت واقوال بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اور وہ بھی بطور شک کے جس پرانی دلالت کرتا ہے نقل کر کے عوام الناس کو یہ جتانا چاہا ہے کہ تمام مفسرین اور عامہ صحابہ و تابعین مسئلہ حیات مسیح میں جو اس آیہ لیؤمنن به قبل موتہ کو قطعی الدلالت نہیں کہتے محض غلطی اور باطل پر ہیں نعوذ باللہ منہ اور مع ھذا یہ بھی جتلانا چاہا ہے کہ وہ سب مرزا صاحب کے مخالف اور ہمارے موافق ہیں اور یہ محض مغالطہ ہے کوئی صحابی کوئی تابعی کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی حیات اس آیہ سے بطور قطعی الدلالت کے ثابت ہوتی ہے اور ابن جریر اور ابن کثیر کا مطلب بھی یہ نہیں ۔ ہاں البتہ انہوں نے اپنی رائے کو ترجیح دے کر یہ تقول مسامحتا کر دیا ہے کہ یہ رائے دلیل قاطع سے ثابت ہے چنانچہ اب جناب سے اسی دلیل قاطع کا مطالبہ ہے اگر موجود ہو تو بیان فرمائی جاوے چوتھی مثال آپ کا عوام الناس کو یہ جتانا ہے کہ نون لیؤمنن کو باوجود لام تاکید کے التزاماً خالص استقبال کیلئے ٹھہرانا تمام صحابہ و مفسرین کا مذہب ہے جو سراسر آپ کا دھوکا و مغالطہ ہے آپ کی اس قسم کی باتوں کا میں تین دفعہ جواب ترکی بتر کی دے چکا آئندہ بھی اگر یہی طریق جاری رہا تو اس سے آپ کو تو یہ فائدہ ہوگا کہ اصل بات مل جاوے گی اور آپ کی اتباع میں آپ کی جواب نویسی ثابت ہو جاوے گی مگر اس میں مسلمانوں کا یہ حرج ہوگا کہ ان پر نتیجہ بحث ظاہر نہ ہوگا اور آپ کا اصل حال نہ کھلے گا کہ آپ لاجواب ہو چکے ہیں اور اعتقاد حیات مسیح میں خطا پر ہیں اور بات کو ادھر اُدھر لے جا کر ٹلا رہے ہیں لہذا آئندہ آپ کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مدنظر ہے تو زائد باتوں کو چھوڑ کر میری اصل بات یعنی وفات مسیح پر دلیل قطعی قائم کرنے میں کلام و بحث کو محد و دو محصور کریں اور جو میں نے یہ شہادت قواعد نحوی اجماعیه و با ستدلال قواعد علم بلاغت واصول حدیث واصول فقہ وسائر علوم درسیہ رسمیہ کے مضمون آیت کا زمانہ استقبال کیلئے مخصوص نہ ہونا اور بصورت صحت تحقق اس مضمون کا وقت نزول سے مخصوص نہ ہونا ثابت کیا ہے اس کا جواب در صورت عدم تسلیم قواعد نحو یہ اجماعیہ وعلم بلاغت وغیرہ کے دو حرفی یہ دیں کہ تمام قواعد نحوی و قواعد علم بلاغت وغیرہ بے کارو بے اعتبار ہیں یا خاص کر یہ قاعدہ یعنی صیغہ مستقبل کا واسطے دوام تجددی کے آنا غلط ہے اور اس کو فلاں شخص امام فن نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی غلطی پر قرآن یا حدیث صحیح یا اقوال عرب عرباء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اس کے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے یا یہ کہ فہم معنے قرآن کیلئے کوئی قاعدہ علم بلاغت و علم اصول فقہ و علم اصول حدیث وغیرہ کا مقرر نہیں ہے جس ی خط کشیدہ عبارت ۱۸۹۲ ء ایڈیشن میں موجود ہے جبکہ ۱۸۹۵ء کے ایڈیشن میں سہو کتابت سے نقل ہونے سے رہ گئی ہے۔(ناشر)