اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 305

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۰۵ الحق مباحثہ دہلی ہے وہ جواب یہ ہے کہ مولوی صاحب میں نے کمال نیک نیتی سے احقاق حق کی غرض سے اپنے ان جملہ ۱۷۵ جوابوں کو جن کو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا تھا یکبارگی قلمبند کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور آپ نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میرا اصل تمسک اور مستقل دلیل پہلی آیت ہے مع ہذا اس کی قطعی الدلالت کے ثبوت میں قواعد نحو یہ اجماعیہ کو پیش نہ کیا اگر آپ بھی نیک نیت اور طالب حق ہیں تو اس کے جواب میں دوصورتوں میں سے ایک صورت اختیار کریں یا تو جملہ دلائل و جوابات سے تعرض کریں اور ان میں سے ایک بات کا جواب بھی باقی نہ چھوڑیں یا میری بات یعنی وفات مسیح سے جو سنت اللہ کے موافق ہے تعرض فرماویں۔ اس کے سواکسی بات کے جواب سے متعرض نہ ہوں مگر افسوس کہ آپ نہ پہلی صورت اختیار کرتے ہیں نہ دوسری بلکہ میری اصل بات کے علاوہ اور باتوں سے بھی تعرض کرتے ہیں مگر ان کو بھی ادھورا چھوڑا اور بہت سی باتوں کے جواب کا حوالہ آئندہ پر چھوڑا کہ ازالہ کا جواب یوں بسط سے دیا جاوے گا اور ؤوں تفصیل سے رد کیا جاوے گا اور ان کے مقابلہ میں اپنے دلائل وغیرہ کے بیان کو بھی اپنے اب آئندہ رد ازالہ اوہام پر ملتوی کیا اور جو کچھ بیان کیا وہ ایسے انداز سے بیان کیا کہ اصل دلیل سے بہت دور چلے گئے اور اپنے بیان کو ایسے پیرایہ میں ادا کیا کہ اس سے عوام دھوکا کھاویں اور خواص نا خوش ہوں ۔اس کی ایک مثال آپ کی یہ بحث ہے کہ آپ مدعی نہیں ہیں۔ صاحب من جس حالت میں آپ نے خود مدعی ہو کر دلائل بھی پیش نہ کئے اور یہ بھی فرماتے رہے کہ میرا منصب مدعی ہونے کا نہیں ہے تو آپ کو اس بحث کی کیا ضرورت تھی صرف دلائل قطعیۃ الدلالت پیش کر دیتے ۔ دوسری مثال یہ ہے کہ حضرت شیخنا و شیخ الکل کی رائے کے بھی آپ نے خلاف بے موقع کیا اور لوگوں کو یہ جتانا چاہا کہ حضرت شیخ الکل بھی اس اس بحث میں آپ سے علم کو کم رکھتے ہیں حالانکہ یہ امر خلاف ہے اور طرہ اس پر یہ ہے کہ وہ بھی ۔۔ بحث میں آپ کے مخاطب ہیں حالانکہ شیخ الکل نے اس بحث میں بسبب چند مصالح علمیت کے مناظرہ نہ فرمایا لہذا شیخ الکل کا ذکر آپ کے خطاب میں محض اجنبی و نا مناسب تھا کیونکہ آپ کو شیخ الکل کی رائے سے مخالف ہونا نہیں چاہئے تھا اور نیز اپنے موافق مولوی محمد حسین صاحب سے بھی مخالفت مناسب نہیں تھی باوجود یکہ حضرت شیخ الکل نے فیما بین جناب اور مولوی صاحب بٹالوی ممدوح کے اس نزاع معلومہ کی بابت صلح بھی کرادی تھی پھر ان کے نہ شریک کرنے میں کیا مصلحت تھی تیسری مثال حاشیه صفحه ۱۷۴ لے عبارت زیر خط مولانا صاحب کی ہے اور کلمات غیر معلم بخطوط اس پیچید ان کے ہیں ناظرین منصفین لطف اس معارضہ بالقلب کا حاصل کر کر داد انصاف دیں الانصاف احسن الاوصاف اور جو کلمات مولوی صاحب پر عائد ہوئے اور اس جگہ لکھے گئے ہیں وہ میری طرف سے نہیں مولوی صاحب کی ہی عبارت ایس جہان کو ہست فعل ما ندا باز می آید نداها را صدا بعینہا ہے ۔