اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 295
۲۹۵ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثه ویلی قبول بھی کر لیں اور اگر سب علمائے اسلام نے قبول نہ کیا تو پھر ایسی ایجادوں سے کیا فائدہ ہوا۔ پس (۱۶۵ کے بموجب اس طریقہ کے جو جناب نے دربارہ نون ثقیلہ ایجاد کیا ہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا جب آپ کسی علم میں ترمیم فرماویں گے تو دوسرا بھی ترمیم کر سکتا ہے قولہ اس کا جواب عامہ تفاسیر میں الخ ۔ اقول یہ کون کہتا ہے کہ عامہ تفاسیر میں اس کا جواب بطور تاویلات رکیکہ اور تو جیہات ضعیفہ کے نہیں لکھا مطلب تو یہ ہے کہ قواعد نحو جو کتب درسیہ نحویہ میں لکھی ہیں ۔ قراءت متواتر وان هذان اس کے خلاف ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قواعد علوم تابع و خادم قرآن مجید ہیں۔ اور قرآن مجید سب کا متبوع اور مخدوم پس جملہ علوم کو تابع قرآن مجید کا کرنا ضرور ہے نہ برعکس۔ پس بمقابلہ و تعارض قرآن مجید کے کوئی قاعدہ ہو ساقط الاعتبار رہے گا۔ کما مربیانه۔ قوله ی خطا فاحش ہے۔ اقول یہ خطا فاش ہے کیونکہ ان هذان قراءت متواترہ کب ہے جو یوں لکھا جاتا کہ بجائے ان ھذین کے إِنَّ هذان لکھا ہو اور لفظ فاش کو مولوی صاحب نے خلاف محاورہ فرس کے فاحش لکھا ہے یہ خطافاش محاوره فرس و نیز محاورہ اردو کے ہے۔ قولہ یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت الخ اقول جو مضارع موکد به لام تاکید معه نون تاکید کے ہو دے اس کا استعمال التزاماً خالص استقبال کیلئے ہونا کسی ایک امام نحو نے بھی نہیں لکھا۔ چہ جائیکہ اس پر اجماع ہو گیا ہو۔ و من ادعى الآن فعليه البیان اور میزان الصرف وغیرہ کے حاشیہ میں لکھی ہونے سے اجماع ائمہ نحات کا ثابت نہیں ہوسکتا۔ لہذا آپ کو ضرور ہے کہ جلد اشتہار اس بات کا دیویں کہ خالص استقبال کا مراد ہونا اور وہ بھی التزاماً ہر ایک صیغہ مضارع موکد بلام تاکید ونون تاکید میں جو ہم نے لکھا تھا اور اس کو منسوب با جماع ائمہ نحات کیا تھاوہ خلاف نفس الا مر کے اور غیر صحیح تھا ہم نے اس سے رجوع کیا تا کہ کوئی آپ کا معتقد دروازہ الحاد کا نہ کھولنے پاوے۔قوله سُبْحَنَكَ هذَا بُهْتَان عَظِيم اقول - التفاسير المعتبرة تشهد بها والله الكريم۔ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ " قوله آپ ان اکابر کا مطلب الخ۔ اقول ۔ آپ ہی ان اکابر مفسرین کا مطلب بالکل نہیں سمجھے فافهم - قوله - توضیح المرام سے معلوم ہوتا ہے الخ اقول۔ ايها الناظرين ورا انصاف کرو اور برائے خدا ، اللہ تعالیٰ سے ڈر کر توضیح المرام کو بھی دیکھو اور از التہ الا و ہام کو بھی ملاحظہ کرو کہ حضرت اقدس نے کسی جگہ پر آیت ليؤمنن به قبل موته کووفات مسیح پر قطعی الدلالت یقینی یا صریح الدلالت لکھا ہے جو مولوی صاحب بطور معارضہ کے فرماتے ہیں کہ آپ کی یہ تقریر بادنی تغیر آپ پر منعکس ہو جاتی ہے الخ ہاں البتہ اگر حضرت اقدس آیت ليؤمنن به قبل موته كو وفات مسیح پر قطعی الدلالت فرماتے جیسا کہ مولوی صاحب اس آیہ کو حیات مسیح پر النور: ۷ الواقعة : ۷۷