اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 288

روحانی خزائن جلدم ۲۸۸ الحق مباحثہ دہلی (۱۵۸) فامکم منکم بھی ہے جو سب احتمالات کو قطع کرتا ہے کمامر سابقا قوله اس حدیث کو قطعی الدلالت نہیں کہا گیا صرف تائید کے لئے لائی گئی ہے اقول جب کہ اس حدیث کی معارض احادیث متفق علیہ موجود ہیں تو پھر یہ حدیث بمقابلہ احادیث متفق علیہ کے ساقط رہے گی پھر تائید کے کیا معنے ۔ خصوصاً اس حالت میں کہ در صورت عدم مخالفت و تعارض احادیث متفق علیہ کے بھی فی نفسہ وہ حجت نہیں ہو سکتی ہے۔ کمامر قوله آپ وہ حدیث صحیح مرفوع متصل الخ۔ اقول ۔ آپ ملاحظہ فرمائیے ازالہ اوہام اور نیز جو اس میں افادات البخاری لکھے ہیں ان کو مطالعہ فرمائیے تا کہ مخالفت تعلیم قرآن بھی ثابت ہو جاوے۔ واخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَنَا اللَّهُ۔ مولوی محمد بشیر صاحب کے پرچہ ثالث پر سرسری نظر بسم الله الرحمن الرحيم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَصَلَّى الله عَلى سَيِّدِنَا محمد والهِ وَاصْحَابِهِ اجْمَعِيْنِ وَ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - اما بعد واضح خاطر عاطر ناظرین منصفین ہو کہ پر چہائے ثلاثہ مولوی صاحب کے جوابات حضرت اقدس مرزا صاحب کی طرف سے ایسے شافی و کافی دیئے گئے ہیں کہ اب حاجت جواب دینے کی باقی نہیں رہی کیونکہ مولا نا صاحب نے اس پر چہ ثالث میں بھی اعادہ انہیں ابحاث کا کیا ہے جن کا جواب حضرت اقدس کی طرف سے مکرر ہو چکا لیکن چونکہ مولوی صاحب کی طرف سے مکر رسہ کرر درخواست مباحثه از هیچمدان اس اقرار سے واقع ہوئی کہ اگر مجھ کو اس مسئلہ متنازعہ فیہا کا حق ہونا اب بھی ثابت ہو جاوے گا تو میں بالضرور قبول کر لوں گا۔ لہذا ادھر سے بھی اظہار الحق والصواب جوا بہائے شافی و کافی با میدہ مضمون اذا تكرر تقرر کر کے مکر رسہ کر ردیئے جاتے ہیں شائد کہ مولانا صاحب حسب اقرار خود اس حق کو قبول فرمالیں۔ اول میں ان تمام احادیث کا فیصلہ قطعی مجملاً چند سطور میں کرنا چاہتا ہوں جو اس وقت بعض سائلین نے پیش کی ہیں بعدہ جواب بطور قولہ واقول کے اس پر چہ ثالث کا لکھا جاوے گا۔ فیصلہ بعض احادیث متفق علیہ درباره نزول مسیح بن مریم ساتھ قید منکم کے وارد ہیں چنانچہ و امامکم منکم اور صحیح مسلم میں فامکم منكم يعنى امكم بكتاب الله وسنة رسولہ ۔ اب جس قدر احادیث کہ اس قید سے مطلق آئی ہیں خواہ ہزاروں ہی ہوں وہ سب احادیث