اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 287

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۸۷ الحق مباحثہ دہلی تعارض ہوا کرتا ہے لہذا واسطے توفیق کے عام کو عام مخصوص البعض کر لیا کرتے ہیں۔ اور واضح ہو کہ ۱۵۷ تعارض کے واسطے یہ بھی شرط ہے کہ ہر دو ادلہ بہمہ وجوہ درجہ مساوی پر ہوں یہ مسئلہ بھی کتب اصول میں مبین ہے۔ پس اب گذارش یہ ہے کہ آیت ليؤمنن به قبل موته بچند وجوہ ذوالوجوہ ٹھہر چکی ہے تو اندریں صورت کیونکر مخصص ہو سکتی ہے اُس آیہ کے جو ذ والوجوہ نہیں یعنے مثلاً یہ آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ، اور اگر تخصیص بھی مابین ان دونوں آیتوں کے تسلیم کی جاوے تو چونکہ آیت وان من اهل الكتب عام تھی اور آپ بھی اسکے عموم کے واسطے ایک زمانہ کے قائل ہیں اور آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وغیرہ کا مخصوص خاص ہے کہ الخاص مادل على كثرة مخصوصة۔ تو اندرين صورت خاص یعنی آیت ثانی عام یعنے آیت اوّل کی مخصص ہو دے گی نہ برعکس کہ عکس القضیہ ہوا جاتا ہے کمامر قولہ اس واسطے اس آ یہ کو قطعی الدلالة لذاتها نہیں کہا گیا ۔ اقول جب کہ جناب والا بسبب ذوالوجوہ ہونے کے آیت تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ل کو قطعی الدلالت لذا تھا نہیں کہتے تو پھر آیت ليؤمنن به قبل موتہ کو کیوں قطعی الدلالت فرماتے ہو کیونکہ آیت لیومنن به قبل موته به نسبت لفظ کہل کے زیادہ تر ذوالوجوہ ہے اول تو ضمیر بہ میں روایت و درایتاً بہت سا کچھ اختلاف ہے پھر ضمیر قبل موتہ میں اختلاف کثیر ہے پھر لفظ اہل کتاب میں بھی بہت اختلاف ہے پھر یہ آیت کیونکر قطعی الدلالت ہو گئی اور وہ نہ ہوئی لان هذا ترجیح بلا مرجح ۔ اور دلیل کی دو قسمیں جو باعتبار دلالت کے آپ کرتے ہیں ۔ ایک قطعی الدلالت في نفسها اور دوسری قطعی الدلالت لغيرها یه ایک اصطلاح جدید اح جدید ہے جو دوسرے پر ؟ رے پر حجت نہیں کمامر غیر مرة ـ قوله مسلّم ہے کہ آیت انی مُتَوَفِّيك الى اقول آپ خود قسطلانی سے نقل فرما چکے ہیں کہ التــوفــي اخــذ الـشـيء وافيا والموت نوع منه اس سے معلوم ہوا کہ موت میں بھی اخذ شيء وافيا ہوا کرتا ہے کیونکہ والموت نوع منه قوله آپ کو نزول عین عیسی بن مریم سے الخ اقول مولانا مجھ کو یہ افسوس آتا ہے کہ آپ ہمیشہ وعدہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اگر مباحثہ کروں گا۔ تو بعد دیکھنے تمام ازالہ اوہام کے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ نے ازالہ اوہام کو اول سے آخر تک مطالعہ نہ فرمایا۔ سرسری طور پر دو ایک مقام دیکھ لئے اور مباحثہ قائم کر لیا جس کا انجام یہ ہوا کہ بہت سے امور کی بحث آپکی جانب سے ایک تکرار بے سود رہی۔ ازالہ اوہام اگر آپ مطالعہ فرماویں تو جناب کو صد ہا صوارف ایسے قوی مل جاویں کہ معنے حقیقی ابن مریم کے ان صوارف کی وجہ سے ہرگز نہیں لے سکتے ۔ مثلاً ایک صارف یہ ہیچمدان سابق لکھ چکا کہ خود صحیحین کی حدیث میں اس مسیح بن مریم کی صفت و امامکم منکم واقع ہے اور صحیح مسلم میں باسانید صحیحہ المائدة : ۱۵ - المائدة : ااا