اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 287
۲۸۷ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی تعارض ہوا کرتا ہے لہذا واسطے توفیق کے عام کو عام مخصوص البعض کر لیا کرتے ہیں۔ اور واضح ہو کہ ۱۵۷ تعارض کے واسطے یہ بھی شرط ہے کہ ہر دو ادلہ ہمہ وجوہ درجہ مساوی پر ہوں یہ مسئلہ بھی کتب اصول میں مبین ہے۔ پس اب گزارش یہ ہے کہ آیت لیؤمنن به قبل موته بچند وجوہ ذوالوجوہ ٹھہر چکی ہے تو اندریں صورت کیونکر مختص ہو سکتی ہے اُس آیہ کے جو ذ والوجوہ نہیں یعنے مثلاً یہ آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِمَةِ ! اور اگر تخصیص بھی مابین ان دونوں آیتوں کے تسلیم کی جاوے تو چونکہ آیت وان من اهل الكتب عام تھی اور آپ بھی اسکے عموم کے واسطے ایک زمانہ کے قائل ہیں اور آیت فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ وغیرہ کا مخصوص خاص ہے کہ الخاص مادل على كثرة مخصوصة۔ تو اندرين صورت خاص یعنی آیت ثانی عام یعنے آیت اوّل کی مخصص ہو دے گی نہ برعکس کہ عکس القضیہ ہوا جاتا ہے کمامر۔قولہ اسی واسطے اس آیہ كو قطعی الدلالة لذاتھا نہیں کہا گیا۔ اقول جب کہ جناب والا بسبب ذ والوجوہ ہونے کے آیت تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ل کو قطعی الدلالت لذا تها نہیں کہتے تو پھر آیت ليؤمنن به قبل موتہ کو کیوں قطعی الدلالت فرماتے ہو کیونکہ آیت لیسو منن به قبل موته به نسبت لفظ کہل کے زیادہ تر ذو الوجوہ ہے اول تو ضمیر ہم میں روایتی و در ایتا بہت سا کچھ اختلاف ہے پھر ضمیر قبل موتہ میں اختلاف کثیر ہے پھر لفظ اہل کتاب میں بھی بہت اختلاف ہے پھر یہ آیت کیونکر قطعی الدلالت ہوگئی اور وہ نہ ہوئی لان هذا ترجیح بلا مرجّح ۔ اور دلیل کی دو قسمیں جو باعتبار دلالت کے آپ کرتے ہیں ۔ ایک قطعی الدلالت فی نفسها اور دوسری قطعی الدلالت لغيرها يه ایک اصطلاح جدید ہے جو دوسرے پر حجت نہیں کمامر غير مرة قوله مسلّم ہے کہ آیت اِنِّی متوفیک ان اقول آپ خود قسطلانی سے نقل فرما چکے ہیں کہ التوقى اخذ الشيء وافيا والموت نوع منہ اس سے معلوم ہوا کہ موت میں بھی اخذ شيء وافيا ہوا کرتا ہے کیونکہ والموت نوع منه قوله آپ کو نزول عین عیسی بن مریم سے ان اقول مولا نا مجھ کو یہ افسوس آتا ہے کہ آپ ہمیشہ وعدہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اگر مباحثہ کروں گا۔ تو بعد دیکھنے تمام ازالہ اوہام کے لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ نے ازالہ اوہام کو اول سے آخر تک مطالعہ نہ فرمایا۔ سرسری طور پر دو ایک مقام دیکھ لئے اور مباحثہ قائم کر لیا جسکا انجام یہ ہوا کہ بہت سے امور کی بحث آ پکی جانب سے ایک تکرار بے سود رہی۔ ازالہ اوہام اگر آپ مطالعہ فرما دیں تو جناب کو صد با صوارف ایسے قومی مل جاویں کہ معنے حقیقی ابن مریم کے ان صوارف کی وجہ سے ہرگز نہیں لے سکتے ۔ مثلاً ایک صارف یہ ہیچمدان سابق لکھ چکا کہ خود صحیحین کی حدیث میں اس مسیح بن مریم کی صفت و امامکم منکم واقع ہے اور صحیح مسلم میں باسانید صحیحہ المائدة : ۱۵ ۲ المائدة : ۱۱