اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 285
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۸۵ الحق مباحثہ دہلی آجاوے کہ یہاں پر تخصیص مطلوب مولوی صاحب کی جاری نہیں ہو سکتی ۔ ارشاد الفحول میں لکھا ۱۵۵ ہے۔ وفي الاصطلاح العام هو اللفظ المستغرق لجميع ما يصلح له بحسب وضع واحد دفعة والخاص هو اللفظ الدال على مسمى واحداعم من ان يكون فردا اونوعًا اوصنفا و قيل ما دل على كثرة مخصوصة ومن الفروق بين النسخ والتخصيص ان التخصيص لا يكون الا لبعض الافراد و النسخ يكون لكلها اب گذارش یہ ہے کہ آیات بینات سے بطور اخبار کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں قیامت تک کچھ نہ کچھ کا فر بھی موجود رہیں گے۔ قال الله تعالى وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ايضًا قال - وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ کے اب با وجود اس اخبار اللہ تعالیٰ کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ آیت وَان مِنْ أَهْلِ الْكِتَب میں صاف وعدہ ہے کہ قبل موت حضرت عیسی کے سب اہل کتاب مومن ہو جاویں گے اور یہ آیت مخصص واقع ہوئی ہے ان آیات بینات کی ۔ مولانا صاحب اگر آپ ان دونوں آیتوں میں واسطے توفیق مفاہیم مختلفہ کے تخصیص کے قائل ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ جناب کے معنے عام ہیں العام هو اللفظ المستغرق لجميع ما يصلح له الخ اور مفہوم آیت لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِينَ الآيه کا خاص ہے کہ الخاص مادل على كثرة مخصوصة او كما قيل پس بموجب فروق مذکورہ بالا کے مفہوم آیت لَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ الآيہ کا جو خاص ہے آپ کے معنے عام کا مخصص ہو سکتا ہے نہ برعکس لان التخصيص لا يكون الالبعض الافراد لیکن اندریں صورت اس د تخصیص سے کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوتا کیونکہ اس تخصیص کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ ایک خاص زمانہ میں بعض اہل کتاب ایمان لے آئیں گے حالانکہ بعض اہل کتاب تو ہر زمانہ میں ایمان لائے ہوئے ہیں۔ علاوہ یہ کا یہ کہ اگر اسکے برعکس تخصیص مانی جاوے تو وہ نسخ ہوا جاتا ہے تخصیر ہے تخصیص نہیں رہتی اور نسخ اخبار میں عند الاصولیین درست نہیں ہے۔ ایہا الناظرین مولوی صاحب نے اس مسئلہ میں غور نہیں فرمایا اس واسطے اشتباه والتباس واقع ہو گیا کہ جو آیت خاص تھی اور مخصص ہو سکتی تھی اس کو عام قرار دے دیا اور جو آیت کہ عام تھی اس کو خاص یا مخصوص فرمادیا ۔ فتأملوا وانظروا واعتبروا يااولی الابصار ۔ قوله دوم احادیث صحیح سے ثابت ہے الخ ۔ اقول ۔ مولوی صاحب آیت کا تو یہ مفہوم ہے کہ مومنین متبعین قیامت تک فائق رہیں گے اور کا فرقیامت تک مغلوب رہیں گے اور مضمون احادیث کا یہ ہے کہ وقت قیام قیامیت کے سب شریر رہ جاویں گے ان دونوں مفہوموں میں کسی طرح کا تعارض نہیں معلوم ہوتا جو تخصیص یا نہ ہوتا جو تخصیص یا نسخ کے طور پر ان دونوں مفہوموں میں تو میں توفیق کی جاوے ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دفعہ واحدۃ جملہ مومنین متبعین کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لے اور بقیہ ا يوسف : ۱۰۴ ۲ هود : ۱۲۰۱۱۹