اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 272

روحانی خزائن جلدم ۲۷۲ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۲ سے یہاں پر فعل مستقبل اصطلاحی ہے ملاحظہ فرماؤ ہوامش شرح جامی کی علی هذا التباس جس قدر عبارات کتب نحو کی جناب نے نقل فرمائی ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس صیغہ میں لام تاکید معہ نون تاکید کے ہو تو وہ بالضرور خالص استقبال کے واسطے ہی آئے گا۔ ہاں البتہ اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ صرف نون تاکید کے داخل ہونے سے صیغہ مضارع کا خالص استقبال کے لئے اکثر جگہ ہو جاتا ہے پس جب تک کہ اجماع اکا بر ائمہ نوبین کا در صورت اجتماع لام تاکید معہ نون تاکید کے اس بات پر آپ ثابت نہ کریں گے کہ سوائے زمانہ استقبال کے زمانہ حال کا مراد ہونا ممتنع ہے تب تک تقریب دلیل جناب کی محض نا تمام رہے گی و ایــن هــذا يثبت من تلک العبارات المنقولة اور بعد اس اثبات کے بھی یہ گذارش کیا جاوے گا کہ صیغہ مستقبل کا مستعمل ہونا واسطے دوام تجددی یا استمرار کے علم بلاغت سے ثابت ہو چکا ہے وهذا يناقض دعواكم پھر یہ قاعدہ جناب کا اجد نہیں تو کیا قدیم ہے۔ قوله خاکسار کی اصل دلیل اتفاق ائمہ نحاۃ کا ہے اس قاعدہ پر الخ اقول اتفاق اور اجماع کا تو ذکر ہی کیا ہے کسی ایک امام نحو کا قول بھی آپ نے ایسا نقل نہیں فرمایا جس سے تقریب دلیل جناب کی تمام ہوتی ۔ کما مر شرحہ اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے آیات قرآن مجید کی جو ماخذ تمام علوم کا ہے اس بارہ میں تحریر فرمادیں اور تفاسیر معتبر ومثل مظهری وغیرہ سے ثابت کر دیا کہ فان حقيقة الكلام للحال قولہ ۔ ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کیلئے لکھی ہیں ۔ الخ۔ اقول ايها الناظرین آیات سے بڑھ کر اور کس کا قول ہوگا اذاجاء نهر الله بطل نهر معقل قوله مخفی نہ رہے الخ ۔ اقول مولانا یہ ایک اور دوسرا قاعدہ علم نحو میں اس پہلے قاعدہ سے بھی زیادہ اجد آپ نے ایجاد کیا۔ بھلا کون سے قاعدہ نحو سے الا یؤمن صیفہ تحریض کا بغیر حرف تحفیض کے لائے ہوئے ہو سکتا ہے اور قسم کے جواب مثبت میں جو باتفاق نحو بین کے نون تاکید کا آنا بطور وجوب ولزوم کے لکھا ہے اس کو بھی آپ نے توڑ دیا۔ خود فوائد ضیائیہ میں لکھا ہے۔ ولزمت ای نون التاكيد في مثبت القسم اى في جوابه المثبت لان القسم محل التاكيد فكرهوا ان يو كدوا الفعل بامر منفصل عنه وهو القسم من غير ان يو کدوه بمايتصل به وهو الــنــون بــعــد صلاحية له انتهـى مـوضـع الـحــاجـــت اور پھر باوجود تو ڑ دینے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' القیاس “ہونا چاہیے۔(ناشر )