اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 272

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷۲ الحق مباحثہ دہلی ۱۴۲ سے یہاں پر فعل مستقبل او پر فعل مستقبل اصطلاحی ہے ملاحظہ فرماؤ ہوامش شرح جامی کی ۔ علی ھذا التباس جس قدر عبارات كتب نحو کی جناب نے نقل فرمائی ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس صیغہ میں لام تاکید معہ نون تاکید کے ہو تو وہ بالضرور خالص استقبال کے واسطے ہی آئے گا۔ ہاں البتہ اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ صرف نون تاکید کے داخل ہونے سے صیغہ مضارع کا خالص استقبال کے لئے اکثر جگہ ہو جاتا ہے پس جب تک کہ اجماع اکا بر ائمہ نخویین کا در صورت اجتماع لام تاکید معہ نون تاکید کے اس بات پر آپ ثابت نہ کریں گے کہ سوائے زمانہ استقبال کے زمانہ حال کا مراد ہونا ممتنع ہے تب تک تقریب دلیل جناب کی محض نا تمام رہے گی و اين هذا يثبت من تلک العبارات المنقولة اور بعد اس اثبات کے بھی یہ گذارش کیا جاوے گا کہ صیغہ مستقبل کا مستعمل ہونا واسطے دوام تجددی یا استمرار کے علم بلاغت سے ثابت ہو چکا ہے وهذا يناقض دعواكم پھر یہ قاعدہ جناب کا اجد نہیں تو کیا قدیم ہے۔ قوله خاکسار کی اصل دلیل اتفاق ائمہ نحاۃ کا ہے اس قاعدہ پر انج اقول اتفاق اور اجماع کا تو ذکر ہی کیا ہے کسی ایک امام نحو کا قول بھی آپ نے ایسا نقل نہیں فرمایا جس سے تقریب دلیل جناب کی تمام ہوتی ـ كـمـا مـر شرحه ۔ اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے آیات قرآن مجید کی جو ماخذ تمام علوم کا ہے اس بارہ میں تحریر فرمادیں اور تفاسیر معتبرہ مثل مظہری وغیرہ سے ثابت کر دیا کہ فان حقيقة الكلام للحال قوله ۔ ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کیلئے لکھی ہیں ۔ الخ ۔ اقول ۔ ایها الناظرین آیات سے بڑھ کر اور کس کا قول ہوگا اذاجاء نهر الله بطل نهر معقل - قوله مخفی نہ رہے الخ ۔ اقول مولانا یہ ایک اور دوسرا قاعدہ علم نحو میں اس پہلے قاعدہ سے بھی زیادہ اجد آپ نے ایجاد کیا۔ بھلا کون سے قاعدہ نحو سے الا یؤمن صیغہ تحریض کا بغیر حرف تحصیض کے لائے ہوئے ہو سکتا ہے اور قسم کے جواب مثبت میں جو باتفاق نحومین کے نون تاکید کا آنا بطور وجوب ولزوم کے لکھا ہے اس کو بھی آپ نے توڑ دیا۔ خود فوائد ضیائیہ میں لکھا ہے۔ ولــزمــــت ای نون التاكيد في مثبت القسم اى في جوابه المثبت لان القسم محل التاكيد فكرهوا ان يوكدوا الفعل بامر منفصل عنه وهو القسم من غير ان يوكدوه بما يتصل به وهو النون بعد صلاحية له انتهى موضع الحاجت اور پھر با وجود توڑ دینے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے القیاس “ ہونا چاہیے۔(ناشر)