اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 271

۲۷۱ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ہو گیا ہے۔ پس صرف اس لحاظ سے حضرت اقدس نے بحکم آنکہ خصم را تا بخانه باند رسانید - دلائل ۱۳۱۶ وفات مسیح کے اپنے رسائل میں مذکور فرما دیئے ہیں اور وہ بھی بطور نقض و معارضہ و تخلف وغیرہ کے جو سائل کا ہی فرض منصب ہے آپ اصول مناظرہ میں غور فرمائیے اور خلط مبحث نہ کیجئے ۔ غرض کہ حسب آداب مناظرہ حضرت اقدس کسی طرح پر مدعی حقیقی اس مسئلہ متنازعہ فیہ میں نہیں ہو سکتے ہاں البتہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ان کا ہے اور وہ اسکے مدعی ہیں اور بار ثبوت اس دعوے کا ان کے ذمہ ضرور ہے۔ جس کو ازالتہ الاوہام وغیرہ میں مفصلاً اور مشرحا بہ براہین بیان فرمایا ہے ۔ مگر جب بحث حیات و ممات مسیح ختم ہو چکے گی تب آپ ثبوت اس دعوے کا ان سے طلب فرما سکتے ہیں مگر اس وقت اس بحث کا چھیڑ نا خلط مبحث کرنا ہے وہ بعد اس بحث حیات وفات بیج کے ان سے ہو سکتی ہے ویس۔ قولہ اس قاعدہ کو جدید قاعد و کہنا نہایت محل استبعاد ہے۔ الخ۔ اقول مولانا حضرت اقدس مرزا صاحب نے تو آپ کے اس قاعدہ کو جدید ہی فرمایا تھا مگر ہیچمدان نے اس کا احد ہونا ثابت کر دیا اور کوئی محل استبعاد کا بھی نہیں رہا۔ میزان خوان اطفال بھی جانتے ہیں کہ صرف نون تا کید البتہ مضارع کو خالص مستقبل کر دیتا ہے لیکن جب لام تاکید بھی موجود ہو جو واسطے حال کے آتا ہے اور نون تاکید بھی تو ایسے صیغے میں نہ کوئی شیخ زادہ اس بات کا قائل ہے کہ خالص استقبال کا ہونا ضروری ہے اور نہ کوئی سید زادہ یہ کہتا ہے۔ ازہری جو لکھتا ہے کہ لانهما تخلصان مدخولهما للاستقبال تو یہاں پر استقبال سے مراد صیغہ استقبال ہے نہ زمانہ استقبال ۔ اور یہ بات تو زبان اطفال میزان خوان پر بھی جاری ہے کہ صیغہ حال ہیجو صیغہ استقبال است ۔ اور ازہری نے جو اس مسئلہ کی دلیل بیان کی ہے اس سے بھی مطلب ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر مراد اس کی زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا کہ ذلک یــنــافــي الـمـضـى والحال آگے ازہری نے جو یہ لکھا کہ ولايجوز تاکیده بهما اذا كان منفيا او كان المضارع حالا ۔ الخ۔ تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ اگر مضارع سے خالص حال مراد ہو اور استقبال مراد نہ ہو تو اس صورت میں صرف لام تاکید بغیر نون کے مضارع پر آوے گا اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ اگر حال و استقبال دونوں مراد ہوں تو بھی لام تاکید اور نون تاکید سے اس مضارع کو موکد نہ کریں گے ۔ خود فوائد ضیائیہ کے حواشی تکملہ عبدالحکیم وغیرہ میں اس بات کی تصریح کر دی گئی ہے کہ مراد فعل مستقبل