اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 270
۲۷۰ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۱۴۰ متمسكا بشاهد يدل على عدم استحقاقه لاستدلال به و هو استلزامه فسادا اما اعم من ان يكون تخلف المدلول عن الدليل اوفسادًا آخر مثل لزوم المحال وغيره ۔۔۔۔ الى آخره پس اگر حضرت اقدس مرزا صاحب نے جو منصب سائل کا رکھتے ہیں ی ابحاث اپنے رسائل میں درج فرمائی ہیں تو ان کے درج کرنے سے وہ مدعی کیونکر ہو گئے اور جو فرض منصب سائل کا ہے اگر اس کو حضرت اقدس بموجب آداب مناظرہ کے بجالائیں تو یہ سب کام ان کا عبث کس اصل مناظرہ کے رو سے ہو گیا۔ اور اگر کہو کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کے مقابل ان رسائل میں مدعی کون ہے جو مرزا صاحب سائل اور مانع ہو گئے تو جواب اس کا یہ ہے کہ وہ تمام مخالفین حضرت اقدس کے جو دعوی حیات مسیح کا کرتے ہیں وہی مدعی ہیں جن کے خلاف میں حضرت اقدس نے ان رسائل میں کلام کیا ہے اور یہی تعریف ہے سائل کی کہ السـائـل مـن تـكـلـم عـلـى ماتكلم به المدعى اعم من ان يكون مانعا اوناقضا او معارضا ۔ اور یہ جو آپ نے فرمایا کہ بالجملہ بار ثبوت وفات مسیح دو حیثیت سے آپ کے ذمہ ہے الخ یہ ایک التباس حق کا ساتھ غیر حق کے یا تو قصداً کیا گیا ہے یا بسبب عدم امعان نظر کے اصول مناظرہ میں پیدا ہوا ہے اگر اصول مناظرہ میں امعان نظر فر مایا جاوے تو یہ التباس رفع ہو جاوے گا۔ مولانا صاحب گذارش یہ ہے کہ جب مانع اور سائل کسی مدعی کی دلیل کا نقض ومنع کرے گا۔ اگر وہ منع بلاسند ہے تو صرف لا نسلم کہے گا اور اگر اس منع اور نقض کے ساتھ کوئی سند یا شاہد مذکور ہوتو وہ سند وغیرہ بالضرور مشتمل مقدمات پر بھی ہوگی لیکن وہ مانع یا ناقص و معارض اس اشتمال مقدمات سے حقیقت مدعی اس بحث متنازعہ فیہ میں نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً ایسی حالت میں که دعوی مدعی اول کا مخالف سنت اللہ کے ہو اور منع خصم کے موافق سنت اللہ کے جیسا کہ مانحن فيه میں ہے پس وفات مسیح کو جو آپ اصل دعوی حضرت اقدس کا فرماتے ہیں بموجب آداب مناظرہ کے یہ بات درست نہیں ہے۔ یہ اصل دعوی نہیں یہ تو اصل فطرۃ اللہ ہے جس کے قائل اور تمام جگہ آپ بھی ہیں اور نہ وفات مسیح کی حضرت اقدس کی دلیل کا کوئی ایسا مقدمہ ہے جس کے اثبات کی ان کو ضرورت ہو کیونکہ جو امر فطرت اللہ اور سنت اللہ کے موافق ہوتا ہے وہ ظاہر بمنزلہ بد یہی کے ہوتا ہے اس کے اثبات کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی لیکن جب کہ آپ اس سنت اللہ کے ایک خاص مقام میں منکر ہو گئے ہیں تو بحیثیت انکار جناب کے وہ وفات مسیح ایک مقدمہ اعتباری