اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 269
روحانی خزائن جلدم ۲۶۹ الحق مباحثہ دہلی قطعية الدلالت في نفسہ نہیں رہتی لیکن اب گزارش یہ ہے کہ ہر چہار آیات کو تو ۱۳۹ چاروناچار خود جناب نے ادلہ ہونے سے خارج کیا اور آیت اولی کو دنیا بھر کے مفسرین متشابہ اور ڈ والوجوہ کہہ رہے ہیں وہ تو کسی طرح پر بھی حیات مسیح میں قطعية الدلالت ہو ہی نہیں سکتی کما مرشرحه پس اب جناب کے پاس حیات مسیح پر کونسی دلیل باقی رہی۔ اگر موجود ہو تو پیش کیجئے ۔ ورنہ چونکہ حیات و ممات میں کوئی واسطہ نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ سے خوف کر کر اب تو حیات مسیح کے دعوے سے رجوع فرمائیے ۔ قولہ اس میں کلام ہے بچند وجوہ الی قولہ تو یہ کام عبث آپ نے کیوں کیا۔ اقول انالله وانا اليه راجعون ۔ جب کہ مولا نا جیسے فاضل اجل قواعد علم مناظرہ کو قلم انداز فرمادیں گے اور ملحوظ نظر نہ رکھیں گے تو اب اس میچید ان کو کس سے امید ہے کہ اس مباحثہ میں حسب اصول مناظرہ گفتگو کرے ۔ چوکفر از کعبه بر خیزد کجا ماند مسلمانی ايها الناظرين ظاہر ہے کہ حضرت اقدس مرزا صاحب اس مباحثہ میں سائل اور مانع کا منصب رکھتے ہیں خصوصاً مولوی صاحب جیسے مدعی کے مقابلہ میں کہ دعوی بھی ان کا خلاف سنت اللہ اور فطرت اللہ کے واقع ہوا ہے پس اگر حضرت اقدس نے تو ضیح مرام وغیرہ میں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح بسبب فوت ہو جانے کے دنیا میں نہ آئیں گے اور اس منع پر کچھ سند وغیرہ بیان کی ہے تو کیا اس منع وغیرہ سے حضرت اقدس بموجب اصول مناظرہ کے مدعی حقیقی بن گئے ۔ سائل اور مانع کا تو کام ہی یہی ہے کہ منع وغیرہ کا ایراد ادلہ مدعی پر کرے خواہ مناقصہ اور نقض تفصیلی کے طور پر ہو بلا سند یا مع السند کے یا معارضہ کے طور پر ہو یا نقص اجمالی کی طرز پر وغیرہ وغیرہ جس کی تفصیل رسائل صغیر و کبیر علم مناظرہ میں لکھی ہے پس اگر سائل ان طرق مناظرہ اور آداب مباحثہ سے بحث کرے تو کیا وہ فی الحقیقت مدعی ہو جاوے گا ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ رشید یہ وغیرہ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے۔ السائل من نصب نفسه لنفى الحكم الذى ادعاه المدعى بلانصب دليل عليه وقد يطلق على ماهو اعم وهو كل من تكلم على ماتكلم به المدعى اعم من ان يكون مانعا او ناقضا او معارضا ۔ اور اسی میں لکھا ہے المنع طلب الدليل على مقدمة معينة ويسمى ذلك مناقضة و نقضا تفصيليا ۔ والسند مايذكر لتقوية المنع ويسمى مستندا ۔ اور اسی میں لکھا ہے۔ النقض ابطال الدليل بعد تـمـامه