اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 264
روحانی خزائن جلدم ۲۶۴ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۴ یہ ہیچمدان شرح اس کی مفصل لکھ چکا اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں اور نیزان پر چوں میں بکثرت مذکور فرمائے ہیں وہ ملا حظہ فرمائے جاویں پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ با وجود موجود ہونے صوارف کثیرہ کے حقیقی ہی معنے مراد لئے جاویں اور حدیث مرسل جو سیکھی گئی کہ قال الحسن قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة - اسکی نسبت یہ گذارش ہے کہ اولا تو اس حدیث کی تخریج فرمادی جاوے کہ یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں لکھی ہے ۔ ثانیا تعدیل و توثیق اسماء الرجال سب رواۃ اسناد کی کی جاوے۔ ثالثاً بعد طے کرنے ان مراتب کے یہ حدیث مرسل ٹھہرے گی جو بمقابل احادیث صحاح متصل مرفوع کے جو ازالہ وغیرہ میں لکھی ہیں ساقط الاعتبار رہے گی۔ رابعا اگر کوئی حدیث صحیح متصل مرفوع اسکی معارض بھی نہ ہو تو بھی بعد ملے کرنے ان مدارج اربعہ کے حدیث مرسل کے خود حجت ہونے میں کلام ہے۔ سب اصول کی کتابوں میں لکھا ہے فذهب الجمهور الى ضعفه وعدم قيام الحجة یہ نہیں معلوم مولانا صاحب نے اس حدیث کو ایسے مقام میں جہاں دليل قطعية الدلالت مطلوب ہے اور اسی کی بحث ہو رہی ہے کیوں مذکور فر مایا ہے۔ ایسے اقوال یا احادیث ضعیفہ جو بعض تفاسیر وغیرہ میں لکھے ہیں تو اُن کو باب اعتقادیات میں کیا دخل ہے۔ ہیچمدان کے ایک محب مکرم اخونا المعظم جناب حکیم نورالدین صاحب ایک خط موسومہ احقر میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام شعرانی نے طبقات کبری جلد دوم صفحہ ۴۴ میں لکھا ہے ۔ وكان يقول ان علی بن ابی طالب رضى الله تعالى عنه رفع كما رفع عيسى عليه السلام وسينزل كما ينزل عيسى عليه السلام ثم قال الشعرانى هكذا كان يقول سيدى على الخواص پس جو معنے نزول علی بن ابی طالب کے ہیں وہی معنے نزول عیسی بن مریم کے ہیں و على هذا القیاس رفع کو سمجھنا چاہیے۔ قولہ تو اب یہ آیت صارف ہوگئی آیات مذکورہ کے معنے حقیقی سے ۔ اقول یہ امر ثابت ہو چکا کہ آیات إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي وغيره وفات مسیح بن مریم میں نص صریح اور محکم ہیں اور آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه بسبب چند در چند ذ والوجوہ ہونے کے متشابہ ہے اور متشابہ کسی طرح پر محکم کے صارف عن الاحکام نہیں ہو سکتے اور اشارۃ النص بھی بمقابل عبارۃ الحص کے وقت تعارض کے ساقط ہو جاتی ہے اور کتب لغت سے توفی کے