اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 263
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۶۳ الحق مباحثہ دہلی جو حسن حضرت اقدس مرزا صاحب نے بدلیل بیان فرمایا ہے وہ کیا تھوڑا حسن ہے جو اس خیالی حسن کو ۱۳۳ واقعی خیال کر لیا جاوے۔ قوله دلیل سوم الى آخره الدليل - اقول مولانا صاحب مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی ضمیر کا مرجع جو جناب نے روح مع الجسد کو قرار دیا۔ یہ مرجع ضمیر تو آپ ہی کے نا مافی الضمیر میں ہے۔ ہیچمدان نے تو ما قبل اس آیہ کے تمام رکوع میں تفحص کیا مگر کسی جگہ روح مع الجسد مذکور نہیں۔ یہ کیا معما جناب نے ارشاد فرمایا۔ البتہ مسیح عیسی بن مریم تو مذکور ہے اور وہی مرجع مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کی ضمیر کا ہے اور وہی مرجع بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " کا۔ ظاہر ہے کہ اعلام و اسماء کا اطلاق جیسا کہ روح مع الجسد پر ہوتا ہے ویسا ہی صرف روح بلا جسد پر بھی ہوتا ہے بلکہ حقیقت انسانیہ کا مصداق تو وہی روح انسانی ہے۔ ولنعم ما قال المولوى ه شدن آں تو ئی کہ بے بدن داری بدن پس مترس از جسم جاں بیرون شد معنے آیت کے یہ ہوئے کہ اُٹھا لیا اللہ تعالیٰ نے عیسی کو اپنی طرف یعنی اس کی روح کو اُٹھا لیا جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا تھا کہ يُعيسى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى کے پس اس آیت کو خواہ آیت اول کے ساتھ انضمام کیجئے یا نہ کیجئے مدعا کو ہرگز مستلزم نہیں اور تقریب دلیل کی محض نا تمام ہے بلکہ اس آیہ سے تو عکس مد عا جناب کا ثابت ہوتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ نے مفصلاً بیان فرمایا ہے ۔ قولہ دلیل چهارم الی آخر الدلیل ۔ اقول مولانا صاحب جناب کا اقرار پر چہ اوّل میں مندرج ہے کہ اس مباحثہ میں بحث صعود و نزول عیسیٰ " وغیرہ کا خلط نہ کیا جاویگا پھر یہاں پر مناط استدلال خود نزول کو کیوں قرار دیا گیا۔ اور یہ کیوں فرمایا گیا کہ ( پس متعین ہوا کہ مراد نزول ہے ) سلمنا کہ نزول ہی مراد ہے لیکن نزول بارثانی مراد ہونے کی وجہ وجیہ نہیں ہے وہی نزول باراول کیوں نہ مراد ہو جس کو جناب نے حدوث سے تعبیر کیا ہے اور اس احتمال حدوث کو جن وجوہ سے جناب نے باطل کیا ہے ان وجوہ کو حضرت اقدس مرزا صاحب نے بدلائل باطل کر دیا مطالعہ فرمائی جاویں تحریرات ۔ ان کی حاجت اعادہ ذکر کی نہیں اور تمام قرآن مجید میں لفظ نزول سے نزول بار اول یعنے حدوث مراد لیا گیا ہے ملاحظہ فرماؤ ۔ ازالہ اوہام اور اعلام الناس کو۔ قوله معنے حقیقی ابن مریم کے عیسی بن مریم کے ہیں اور صارف یہاں پر کوئی موجود نہیں ۔ اقول جناب مولانا صاحب ایک صارف کا کیا ذکر ہے متعدد صارف موجود ہیں ۔ یاد کرو فامكم منكم و امامکم منکم وغیرہ جو سابق میں ا النساء : ۱۵۸ ۲ النساء : ۱۵۹ آل عمران : ۵۶