اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 245
۱۱۵ روحانی خزائن جلدم ۲۴۵ مرجع ضمير قبل موته الحق مباحثہ دہلی مرجع ضمیر قبل موتہ میں از روئے نحو کے یہ بحث ہے کہ آیت مذکورہ مدعائے مولوی صاحب میں حسب فہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بطور شک کے بھی تب دلالت کرے گی کہ ضمیر قبل موتہ کا مرجع صرف حضرت عیسی کا ہونا از روئے قواعد نحو کے واجب ولازم ہو اور کتــابــى مـا آحــد کا مرجع ہونا از روئے نحو کے بطور قطعی کے محض باطل اور ممتنع ثابت کیا جاوے حالانکہ وہ وجوب اور یہ امتناع از روئے قواعد نحو کے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عام مفسرین نخوبین نے راجح اور اولی قول بموجب قواعد نحو کے یہی اختیار کیا ہے۔ کہ ضمیر قبل موتہ کی راجع ہے طرف کتابی کے جو لفظ اہل کتاب سے سمجھا گیا یا اَحَدٌ مقدر ہے جس کا مقدر ماننا بسبب استثناء کے ضروریات سے ہے۔ اور اگر جناب والا یہ وجوب اور امتناع ثابت کریں گے تو تمام مفسرین کا اجماع ایک امر ممتنع نحوی پر لازم آتا ہے واللازم باطل فالملزوم مثله فهذا الدعوى تقول على الله وفاسد بالقطع ولا يقول به الامن رضى بتاسيس بنائه عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارِ فَانْهَارَ بِهِ بحث سیاق و سباق آیہ از روئے نحو نحو میں سیاق اور سباق کلام کی رعایت بھی بہت کیا کرتے ہیں لہذا اگر آیت مذکورہ سے یہ پیشینگوئی جو مدعا مولوی صاحب ہے مراد الہی ہو تو سباق کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ اوپر ہی عنقریب اس آیہ کے یہ پیشینگوئی موجود ہے فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلا اور اس کے جملہ خبر یہ ہونے میں کوئی کلام اور بحث نحوی بھی نہیں ہے بخلاف آیت پیش کردہ مولوی صاحب کے کہ ہمو جب ہوامش شرح جامی وغیرہ کے اس کے جملہ خبریہ ہونے میں بموجب مسلک مولوی صاحب کے کلام گذر چکاپس ایسا اختلاف سیاق وسباق جس کو کوئی نحوی پسند نہ کرے گا کلام الہی میں کیونکر ہوسکتا ہے۔ صدق اللہ تعالی وَ لَوُ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔ سیاق بیان سیاق یہ ہے کہ آیت وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِیدات " بھی اس معنے کے مخالف پڑتی ہے مجملاً بیان اس کا یہ ہے کہ یہ مسئلہ بکتاب اللہ وسنت صحیحہ ثابت ہو چکا ہے کہ چھلی تمام اہم ماضیہ پر یہ امت مرحومہ شہید و گواہ ہوگی اور اس امت مرحومہ پر رسول مقبول صلی اللہ النساء : ۴۷ ۲ النساء : ۸۳ النساء :١٦٠