اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 245
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴۵ الحق مباحثہ دہلی مرجع ضمير قبل موته مرجع ضمیر قبل موتہ میں از روئے نحو کے یہ بحث ہے کہ آیت مذکورہ مدعائے مولوی صاحب میں حسب فہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بطور شک کے بھی تب دلالت کرے گی کہ ضمیر قبل موتہ کا مرجع صرف حضرت عیسی کا ہونا از روئے قواعد نحو کے واجب ولازم ہو اور کتــابــی مــا احد کا مرجع ہونا از روئے نحو کے بطور قطعی کے محض باطل اور ممتنع ثابت کیا جاوے حالانکہ وہ وجوب اور یہ امتناع از روئے قواعد نحو کے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ عام مفسرین نحومین نے راجح اور اولی قول بموجب قواعد نحو کے یہی اختیار کیا ہے۔ کہ ضمیر قبل موتہ کی راجع ہے طرف کتابی کے جو لفظ اہل کتاب سے سمجھا گیا یا احد مقدر ہے جس کا مقدر ماننا بسبب استثناء کے ضروریات سے ہے۔ اور اگر جناب والا یہ وجوب اور امتناع ثابت کریں گے تو تمام مفسرین کا اجماع ایک امر ممتنع نحوی پر لازم آتا ہے واللازم باطل فالملزوم مثله فهذا الدعوى تقول على الله وفاسد بالقطع ولا يقول به الامن رضی بتاسيس بنائه عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارِ فَانْهَارَ بِهِ۔ بحث سیاق و سباق آیہ از روئے نحو نحو میں سیاق اور سباق کلام کی رعایت بھی بہت کیا کرتے ہیں لہذا اگر آیت مذکورہ سے یہ پیشینگوئی جو مدعا مولوی صاحب ہے مرادا الہی ہو تو سباق کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ اوپر ہی عنقریب اس آیہ کے یہ پیشینگوئی موجود ہے فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلا اور ا قَلِيلا اور اس کے جملہ خبریہ ہو۔ ریہ ہونے میں کوئی کلام اور بحث نحوی بھی نہیں ہے بخلاف آیت پیش کردہ مولوی صاحب کے کہ بموجب ہوامش شرح جامی وغیرہ کے اس کے جملہ خبریہ ہونے میں بموجب مسلک مولوی صاحب کے کلام گذر چکا پس ایسا اختلاف سیاق و سباق جس کو کوئی نحوی پسند نہ کرے گا کلام الہی میں کیونکر ہو سکتا ہے۔ صدق الله تعالی وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ه سیاق بیان سیاق یہ ہے کہ آیت وَيَوْمَ الْقِيِّمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَیدا " بھی اس معنے کے مخالف پڑتی ہے مجملاً بیان اس کا یہ ہے کہ یہ مسئلہ بکتاب اللہ وسنت صحیحہ ثابت ہو چکا ہے کہ پچھلی تمام امم ماضیہ پر یہ امت مرحومہ شہید و گواہ ہوگی اور اس امت مرحومہ پر رسول مقبول صلی اللہ ا النساء : ۲۴۷ النساء : ۸۳ النساء : ١٦٠ ۱۱۵