اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 243

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴۳ الحق مباحثہ دہلی بخشری وغیرہ سے کچھ اقوال اس بارہ میں نقل فرماتے تو یہ مباحثہ نحوی مولوی صاحب کا کسی قدر ۱۱۳ ما بہ الامتیاز ہو جاتا ۔ اگر چہ بمقابل حضرت اقدس مرزا صاحب جیسے مؤيد من اللہ کے ان ائمہ کبار کی نقل اقوال بھی کچھ وقعت نہیں رکھتی ملاحظہ فرماؤ کتب قرا اگر وہ میسر نہ ہوں تو مطالعہ کرو کتب مولانا شاہ ولی اللہ صاحب اگر وہ بھی بالفعل نہ ملیں تو دیکھو فوز الكبير حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس میں لکھتے ہیں۔ و در نحو قرآن خللی عجیب راه یافته است و آن آنست که جماعتی مذہب سیبویه را اختیار کرده اند و هر چه موافق آن نیست آن را تاویل می کنند ۔ تاویل بعید باشد یا قریب وایں نزد من صحیح نیست اتباع اقوی و اوفق بسیاق و سباق باید کرد۔ مذہب سیبویه باشد یا مذہب فراء در مثل وَالْمُقِيمِينَ الصَّلوةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكُوةَ ، حضرت عثمان گفته اند ستقيمها العرب بالسنتها و تحقیق این حکم نزد یک فقیر آنست که مخالف روزمره مشهوره نیز روزمره است و عرب اول را در اثناء خطب محاورات بسیار واقع می شد که خلاف قاعده مشهوره بر زبان گزشتے ۔ اگر احیاناً بجائے و اویا آمده باشد یا بجائے تثنیہ مفرد یا بجائے مذکر مؤنث چہ عجب ۔ پس آنچه محقق است آنست که ترجمه وَالْمُقِيمِينَ الصَّلوة بمعنے مرفوع باید گفت واللہ اعلم ۔ اگر مولوی صاحب قواعد نحو مندرجہ شرح ملا و حواشی اس کے، کے ایسے پابند ہیں کہ سرِ مو تجاوز نہیں ہو سکتا تو سوال ذیل کا جواب مرحمت فرمادیں ۔ انہیں کتابوں میں لکھا ہے کہ نون التاكيد لا يؤكد الامطلوبا والمطلوب لا يكون ماضيا ولا حالا ولا خبرا مستقبلا اس سے ثابت ہوا کہ ليؤمنن به قبل موته جملہ خبریہ نہیں ہے بلکہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہے چنانچہ تفسیر بیضاوی وغیرہ میں بھی واللہ کو پہلے لیؤمنن کے مقدر مانا ہے اور جملہ قسمیہ انشائیہ ہی قرار دیا ہے اور جب کہ جملہ قسمیہ انشائیہ ہوا تو پیشین گوئی یعنی خبر مستقبل کیونکر ہو سکتا ہے کجا جملہ خبریہ اور کجا جملہ انشائیہ بہ میں تفاوت ره از کجاست تا بکجا ۔ اور پھر ایک فساد اس میں اور بھی پیدا ہو گیا وہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب سے جو ایمان لانا حضرت عیسی پر مطلوب الہی ہے وہ قبل ان کی موت کے ہے کیونکہ تقئيد بقيد قبل موته محض بریکار تو ہے ہی نہیں ۔ مطول وغیرہ کو دیکھو جملہ مقیدات میں بموجب قواعد علم بلاغت کے لحاظ قید کا ضروری ہوتا ہے ورنہ ل النساء : ١٦٣