اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 239

روحانی خزائن جلدم ۲۳۹ الحق مباحثہ دہلی متصل سے یہ ثابت ہے کہ معنی آیت کے یہی ہیں جو مولوی صاحب نے کئے ہیں۔ پیشین گوئی کا تو ذکر (۱۰۹) ہی کیا ہے۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب تو دیگر مطالب تفسیر یہ کی نسبت یہی تحریر فرماتے ہیں۔ پیش این فقیر محقق شده است که صحابه و تا بعین بسیار بود که نزلت الآية في کذا و کذا می گفتند و غرض ایشاں تصویر ما صدق آں آیت بود و ڈ کر بعض حوادث کہ آیت آن را بعموم خود شامل شده است خواه این قصه متقدم باشد یا متاخر اسرائیلی باشد یا جاہلی یا اسلامی تمام قیود آیت را گرفته باشد یا بعض آن را و الله اعلم ازیں تحقیق دانسته شد که اجتہا درا در یں قسم دخلے ہست و قصص متعدده را آنجا گنجائش هست پس ہر کہ اس نکتہ متحضر دارد حل مختلفات سبب نزول بادنی عنایت سے تو اں نمود ۔ انتھی۔ ہاں مولوی صاحب کو صرف اتنا اختیار تھا کہ اپنے ان معنے مختار کوترجیح دیتے نہ یہ کہ ان کو قطعية الدلالت فرماتے اور نہ ایسا کلمہ کہتے کہ مصداق ہو۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۖ کا اس معنے کے ماعدا جتنے معنے تمام دنیا بھر کی تفسیروں میں لکھے ہیں سب غلط اور باطل ہیں اے مولوی صاحب اتق الله نام نیک رفتگان ضائع مکن تا بماند نام نیکت یادگار یہ قضیہ بھی تو مسلمہ مفسرین ہے کہ فمتى اختلف التابعون لم يكن بعض اقوالهم حجة عـلـي بـعـض ۔ پھر مولوی صاحب کا تمام دنیا بھر کے مفسرین کو باطل اور غلطی پر قرار دینا اور اپنے معنی کو حجت قطعی گرداننا کیا یہی تقویٰ اور دیانت اور اظہار حق وصواب ہے؟ بینوا توجروا علم زبان فارسی مولوی صاحب نے جو ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کی طرف توجہ فرمائی تو بسبب غلبہ خیال نون ثقیلہ کے جو جو صیغے کہ فارسی میں واسطے مضارع کے آتے ہیں ان کو خالص استقبال کے واسطے اپنی طرف سے خلاف قواعد فرس قرار دے لیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ تر جمہ یہ ہیں ۔ پس البته متوجه گردانیم ترا بان قبله که خوشنود شوی والبته بسوزانیم آن را پس پراگندہ سازیم آن را والبته دلالت کنیم ایشاں را برا ہائے خود ۔ والبتہ غالب شوم منو غالب شوند پیغمبران منوالبته زنده کنمیش بزندگانی پاک و دژاریم ایشان را در زمره شائستگاں ۔ ایها الناظرين اطفال دبستان بھی اس قاعدہ کو خوب جانتے ہیں کہ علامت خالص استقبال کی خواہد ۔ خواہند ۔ خواہی ۔ خواہید ۔ خواہم ہے اور علامت خالص حال کی لفظ مے کا مضارع پر داخل ہونا ہے ۔ اور یہ الفا ظ مندرجہ الكه ۶: