اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 231
۲۳۱ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی اندریں صورت فریقین کے پرچہ مساوی نہ رہیں گے ۔ تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيرى جناب والا نے (101) یہ مسئلہ علمیہ عنایت نامہ میں ایسا مندرج فرمایا ہے کہ ہیچمد ان کی سمجھ میں نہیں آتا اور اغلب کہ دیگر ہمہ دانوں کی سمجھ میں بھی نہ آوے گا پس طرز جدید رائے ناقص میں مستحسن نہیں ہے۔ وہی طرز اور وہی مباحثہ محررہ جناب جس سے دہلی میں فتح ہوئی ہے کافی ہے کیونکہ مجرب بھی ہو چکا ہے اندریں صورت وہی مباحثہ دہلی میچید ان کے پاس روانہ فرمادیجئے۔ حق ہوگا تو قبول کرلوں گا ورنہ نظر کر کر کچھ عرض کروں گا۔ انشاء اللہ تعالی ۔ گزارش نهم جناب والا جب دہلی سے واپس تشریف لائے تو بروقت ملاقات کے احقر سے فرمایا تھا کہ جب حضرت میاں صاحب مدظلہ نے بہت سا کچھ اصرار کیا کہ اگر مباحثہ کرتے ہو تو اس میں مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ سے ضرور بالضرور مشورہ کر لو کیونکہ تلاحق افکار سے علم میں ترقی ہو جاتی ہے تب آپ نے میاں صاحب سے کہا کہ مجھ کو اپنی ادلہ پر ایسا وثوق ہے کہ حاجت اعانت اور مشورہ کی ہرگز نہیں ہے مطلب یہی تھا گو الفاظ اور ہوں ۔ یہ سب قصہ جب سے احقر نے آپ کی خاص زبان فیض ترجمان سے سنا ہے اگر چہ بذریعہ آمد خطوط بھی معلوم ہوا تھا جب سے احقر نہایت مضطرب اور بے قرار ہے کہ وہ ادلہ قطعیہ دفعتاً کیونکر غیب الغیب سے عالم شہود میں پیدا و ظاہر ہوگئیں کہ نہ حضرت شیخ الکل مد ظلہ کے خیال میں آئیں اور نہ مولوی محمد حسین وغیرہ کی قوت متخیلہ میں گزریں اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ روایت عدول و ثقات سے سنا گیا کہ چند روز قبل تشریف بری دہلی کے آپ نے بھی برملا فرمایا تھا کہ حیات مسیح پر کوئی دلیل قطعی نہیں معلوم ہوتی ۔ شرق سے غرب تک بھی اگر کوئی شخص کرے تو بھی ایسی دلیل نہ ملے گی پس جب کہ وہ ادلہ قطعیہ دفعتا غیب الغیب سے عالم شہود میں آگئی ہیں اور مباحثہ دہلی میں پیش ہو کر صورت فتح وغلبہ بھی پیدا ہوگئی ہے تو وہ ادلہ قطعیہ محررہ پیش شدہ بعینہا بیچمدان کے پاس روانہ فرمادی جاویں۔ بھلا جب وہ ادلہ قطعی الدلالت ہوں گی تو احقران کو کیونکر قبول نہ کرے گا اور جو مقدمہ اس کا لکھا جا رہا ہے اگر آپ چاہیں تو اس کو نہ دکھلائیے کیونکہ وہ مقدمہ غایت الامر یہ ہے کہ بطور مبادی کے ہوگا نہ بطور مقاصد اور اصول مطالب کے کیونکہ ایسے اصول و مقدمات مقاصد سب قبل ہی سے مہد ہو چکے ہوں گے اصول مقاصد میں اس کو دخل ہی کیا ہے۔ گزارش دہم جناب کو معلوم ہے کہ یہ احقر دس بجے سے شام تک کچہری میں کام سرکاری کرتا ہے صبح سے النجم : ٢٣