اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 229
روحانی خزائن جلدم ۲۲۹ الحق مباحثہ دہلی اختیار کیا گیا ہے یہ امرنفس الامر کے خلاف معلوم ہوتا ہے شاید واسطے خاطر داری اور مدارات عوام 99 کے مصلحتا یہ جتلا نا منظور ہے کہ ہم ابتدا سے اس مسئلہ میں مخالف ہیں نہ متوقف کیونکہ جس روز تک جناب والا دہلی سے واپس تشریف لائے ہیں اس روز تک تو ہجر ان کی ہاء ہوز بھی موجود نہ تھی حتی کہ بنابر مدارات احقر کے کسی قدر علماء دہلی کی شکایت غیر مہذبی اور مرزا صاحب کی ثناء تہذیب احقر سے بیان فرمائی اور مباحثہ کے سنانے کا بھی وعدہ غریب خانہ احقر پر تشریف لا کر فرمایا گیا اور دہلی سے ایک عنایت نامه بنام احقر در جواب عریضہ ارسال ہوا جس میں کچھ تذکرہ مجمل مباحثہ کا تھا اور اس سے پہلے وقت تشریف بری دہلی کے جناب والا نے جمعیت چند اشخاص معزز و مہذب اس احقر کے پاس قدم رنجہ فرمایا اور ارادہ جانے کا دہلی کو بغرض مباحثہ ظاہر فرمایا گیا گویا احقر سے رخصت ہو کر دہلی تشریف لے گئے اور اس سے پہلے جب مولوی محمد حسین صاحب اور جناب سے کسی مسئلہ میں کچھ مباحثہ ہوا تھا اور احقر خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو جناب والا نے اپنی زبان فیض ترجمان سے اس کل مباحثہ کی زبانی نقل فرمائی اور یہ بھی ارشاد کیا کہ بعد اللتيا و التی میں نے تو مولوی محمد حسین صاحب کو دجال کذاب کہہ دیا۔ یہ سب حال سن کر احقر کو اس امر سے نہایت رنج ہوا اور بعض احباب سے اس رنج کو احقر نے ظاہر بھی کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے ساتھ جو علماء مشہوربین میں سے ہیں ایسا معاملہ و مکالمہ مناسب نہیں تھا یہ سب واقعات اس امر کے شواہد ہیں کہ جناب والا کو مرزا صاحب کے امر میں بسبب اس کے کہ ان کے دعاوی حیز امکان میں ہیں تو قف تھا اور حیز امتناع میں نہ سمجھے گئے تھے۔ چنانچہ روایت ثقات سے یہ امر بھی معلوم ہوا تھا کہ جناب نے حصہ اوّل اعلام کی نسبت ارشاد فرمایا کہ اس میں جو ادلہ مندرج ہیں وہ ادلہ امکان کے اچھے لکھے ہے ھے ہیں۔ خلاصہ سب معروضات کا یہ ہے کہ سابق اس سے دعاوی مرزا صاحب آپ کے نزدیک سلسلہ ممکنات شرعیہ میں داخل تھے نہ ممتنعات شرعیہ میں ۔ اسی واسطے جناب کو تو قف تھا اور یہ واقعات سب کے دیکھے ہوئے اور سنے ہوئے ہیں۔ اب اس کے خلاف کے اظہار میں جناب کی کوئی مصلحت ہے تو احقر کو اس میں کچھ کلام نہیں۔صرف اظہاراً للصواب ایک امر حق ظاہر کیا گیا اور یہ بطور مبتداء الحق کہا گیا ہے اب دیکھئے خبر اس کی مو واقع ہوتی ہے یا حلو ۔