اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 223
۲۲۳ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ایک ایسے نامی گرامی شخص کو جو دنیا بھر میں معروف ومشہور ہے شکست دی ہے پھر اس میدان و نالائق (۹۳) سے درخواست مباحثہ کیوں ہے۔ من المثل السائر في الورى وكل الصيد في جوف الفراى یہ امر مجرب ہے۔ کہ اعالی پر فتح پا کر ادنی کی طرف توجہ نہیں رہتی ۔ یا الہی ! یہ عالم رویا ہے یا يقظه کیونکہ جناب کا صرف درخواست مباحثہ کرنا اس ہیچمد ان سے خصوصاً کل بروز جمعہ جلسہ وعظ میں باعث نہایت عزت اور فخر کا ہے اگر چہ روبرو جناب کے بیچدان محض ساکت و صامت ہی ہو جاوے تو بھی باعث فخر ہے اکھاڑے میں نامی پہلوان سے بھاگے ہوئے کو بڑی عزت حاصل ہو جاتی ہے۔ کاش اگر یہ درخواست مباحثہ قبل اس فتح عظیم کے واقع ہوتی تو بھی شائد اپنے موقع اور محل پر ہوتی۔ یا الہی یہ ترقی معکوس کیسی ہے۔ اینکه می بینم به بیدار بیست یا رب یا بخواب۔ ہر حال اس خواب کی تعبیر جو خیال ناقص میں آئی ہے خیر لنا وشر لا عدائنا پھر عرض کروں گا ۔ جواب عنایت نامہ گزارش کرتا ہوں۔ گزارش اول جناب والا نے بروقت تشریف آوری کے دہلی سے جب نیازمند خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو زبان فیض ترجمان سے یہ مضمون ارشاد فرمایا تھا الفاظ کچھ ہوں مگر مطلب یہی تھا کہ یہ مباحثہ میرا على الرغم مولانا سید نذیرحسین صاحب و محمد حسین وغیرہ کے واقع ہوا ہے بلکہ ان علماء نے یہ سبب نہ شریک کرنے انکے کے مباحثہ میں حتیٰ کہ جلسہ بحث میں بھی جب شریک نہ کیا تو بخدمت حضرت مرزا صاحب سلمہ ان علمانے یہ تحریر کر بھیجا کہ اس مباحثہ کی فتح و شکست کا اثر ہم پر نہ پہنچے گا اور یہ خبر سب دہلی میں بھی مشہور ہو گئی تھی اور یہ بات علاوہ ہے کہ یہ درخواست فریق ثانی کی تھی مگر آپکی رائے عالی بھی یہی تھی۔ اسی ضمن میں اور بھی چند باتیں ارشاد فرمائیں جن کو پھر عرض کروں گا۔ آخر اسی جلسہ میں یہ بھی فرمایا کہ بشرط اسکے کہ تم ہماری تحریر میں کوئی نقص وجرح نہ کرو تو ہم اسکو نا بھی دیدیں گے۔ اس پر امنا وسلمنا کہا گیا اور وعدہ یہ قرار داد پایا کہ غریب خانہ پر بوقت صبح آپ تشریف لاویں گے اور خلوت میں سب سنا دیا جاوے گا۔ صبح کو ہیچمدان منتظر رہا کہ مولوی صاحب حسب الوعدہ اب تشریف لاتے ہوں گے الكــريــم اذا وعدوفا لیکن یہ امید مبدل بیاس ہو گئی ۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔ صرف نوازش نامہ صادر ہوا جس میں چند امور تحریر فرمائے گئے تھے منجملہ ان کے خلف وعدہ کا یہ عذر تھا۔ کہ یہ مباحثہ تم کو تمہارے مکان پر سنانا و جتانا خلاف مصلحت ہے کیونکہ خدا خدا کر کر تو مجھے پر سے الزام و اتہام