اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 219

روحانی خزائن جلدم ۲۱۹ الحق مباحثہ دہلی کہ اس دنیا کے زوال تک کفار اہل کتاب باقی رہیں گے پھر یہ تاویل کہ کسی وقت قیامت سے پہلے پہلے ۴۸۹۶ کل اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے کس طور سے بھی ٹھہر سکتی ہے ۔ کیا کوئی اور بھی آیت اپنے کھلے کھلے اور بین منطوق سے اس بات کی مصدق ہے کہ ضرور ہے کہ آخری وقت میں قیامت سے پہلے تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے۔ قرآن کریم کی نصوص بینہ قطعية الدلالت کو محض ایک ذوالوجوہ اور متشابہ آیت پر نظر رکھ کر رو کر دینا دیانت کا کام نہیں ہے۔ اللہ جلشانہ فرماتا ہے کہ متشابہات کا اتباع وہ کرتے ہیں جن کے دل میں بجھی ہے اور صراط مستقیم کے پابند نہیں ہیں۔ پھر وہب اور محمد بن اسحاق اور ابن عباس واقع موت کے قائل ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موت مسیح پر صریح شہادت دیتے ہیں اور امام بخاری خود اپنا مذ ہب یہی ظاہر کرتے ہیں تو پھر باوجود ان مخالفانہ ثبوتوں کے قبل موتہ کی ضمیر کیونکر قطعی طور پر حضرت عیسی کی طرف پھر سکتی ہے۔ اور میں نے آپ کے خالص مستقبل کا بھی پورا پورا فیصلہ کر دیا ہے طالب حق کیلئے کافی ہے۔ پھر آپ اپنے پر چہ کے اخیر میں فرماتے ہیں کہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین و جمله صحابہ وتابعین مسیح ابن مریم کی موت سے منکر اور حیات جسمانی کے قائل ہیں اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی عامی اور بے خبر مفسر ہوگا ۔ ہمارے ساتھ اللہ جل شانہ اور اس کا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے ۔ کیا اس حدیث کے موافق جو کتاب التفسیر میں امام بخاری نے لکھی ہے اور ابن عباس کا قول اسکی تائید میں ذکر کیا ہے۔ آپکے پاس اس پانیہ کی کوئی حدیث ہے جسکے الفاظ متنازعہ فیہ کے بارے میں ابن عباس جیسے صحابی کی شرح ہی ہو تو وہ حدیث آپکو شائع کرنی چاہئے اور جیسا کہ اصح الکتب بخاری میں ابن عباس سے انی متوفیک کی شرح اِنِّی مُمیتک منقول ہے ۔ بھلا ایسی اصح الکتب میں سے کسی اور صحابی کے حوالہ سے متوفیک کے کوئی اور معنے بھی تو ثابت کر کے دکھلاویں۔ آپ جانتے ہیں کہ بخاری تنقید میں اول درجہ پر ہے اور وہ حضرت عیسی کی وفات بیان کر چکا ہے اور اسکے صفحہ ۶۶۵ میں ایک جلیل الشان صحابی ابن عم رسول اللہ متوفیک کے معنے مسمیتک جتلا رہا ہے۔ اور جو آنکھیں رکھتا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ امام بخاری اس آل عمران کی آیت کو بر موقعہ تفسیر فلسمًا تو فیتنی کیوں لایا ۔ اور ابن عباس کا قول کیوں پیش کیا۔ اور آیت فلما توقیتی کو کتاب التفسیر میں کیوں درج کیا۔ میں نے تو صحابی کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمودہ بھی آپ کے سامنے رکھ دیا۔