اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 211

روحانی خزائن جلدم ۲۱۱ الحق مباحثہ دہلی نازل کرتا ہے۔ حضرت سینیئے آپ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ایک زمانہ قبل موت عیسی کے ایسا ۸۱ آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے۔ اور بموجب روایت عکرمہ برعایت آپ کے نحوی قاعدہ کے یہ معنے ٹھہریں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب سب کے سب نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے جس ایمان کے طفیل مسیح ابن مریم پر بھی ایمان لانا انہیں نصیب ہو جائے گا۔ اب حضرت الله جلشانہ سے ڈر کر فرمائیے کہ کیا آپ کے قطعية الدلالت ہونے کا دعوی بکلی نابود ہو گیا۔ یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔ آپ خوب سوچ کر اور دل کو تھام کر بیان فرما دیں۔ کہ آپ کی طرز تاویل میں کونسی خالص استقبال کی علامت خاص طور پر پائی جاتی ہے جو اس تاویل میں وہ نہیں پائی جاتی۔ ناظرین برائے خدا آپ بھی ذرا سوچیں۔ بہت صاف بات ہے ذرہ توجہ فرمادیں۔ اے ناظرین آپ لوگ جانتے ہیں کہ کئی دن سے مولوی صاحب کی یہی بحث لگی ہوئی تھی اور فقط اسی بات پر ان کی ضد تھی کہ لفظ ليؤمنن لام اور نون ثقیلہ کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہو گیا ہے۔ اور مولوی صاحب اپنے گمان میں یہ سمجھ رہے تھے کہ خالص استقبال صرف اس طور کے معنے کرنے سے متحقق ہوتا ہے کہ قبل موتہ کی ضمیر مسیح ابن مریم کی طرف پھیریں اور اس کی حیات کے قائل ہو جائیں۔ اور اب اے بھائیو میں نے ثابت کر کے دکھلا دیا کہ خالص استقبال کیلئے یہ ضروری نہیں کہ قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسی کی طرف پھیری جائے بلکہ اس جگہ حضرت عیسی کی طرف ضمیر بہ اور ضمیر قبل موتہ پھیر نے سے معنے ہی فاسد ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ فقط عیسی پر ایمان لانا نجات کے لئے کافی نہیں۔ بلکہ بچے اور واقعی معنے اس طرز پر یہی ہیں کہ ضمیر بہ کی ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیری جائے اور ضمیر قبل موتہ کی کتابی کی طرف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں خود حضرت عیسی وغیرہ انبیاء سب ہی آجائیں گے ۔ نام احمد نام جملہ انبیا است + چونکہ صدا آمد نو د هم نزد ماست ۔ بھائیو برائے خدا خود سوچ لو کہ ان معنوں میں اور حضرت مولوی صاحب کے معنوں میں خالص مستقبل ہونے میں برابری کا درجہ ہے یا ابھی کچھ کسر باقی ہے۔ بھائیو میں محض اللہ آپ لوگوں کے سمجھانے کیلئے پھر دوہرا کر کہتا ہوں کہ مولوی صاحب آیت لیؤمنن بہ کے معنے یوں کرتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے موجودہ اہل کتاب حضرت عیسی کی موت سے پہلے سب کے سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اور میں حسب روایت حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جیسا کہ معالم وغیرہ میں لکھا ہے۔ مولوی صاحب