اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 203
۲۰۳ روحانی خزائن جلده الحق مباحثہ دہلی قوله ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی اسناد پیش کر دی ہیں۔ اقول سند میں جو جرح ہے وہ میں نے اوپر بیان کردی فنذکر ۔ قولہ بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر و پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو۔ اقول تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنی کی صحت پر معترض ہیں ۔ قولہ الہامی معنے جو میں نے کئے ہیں وہ درحقیقت ان معنوں کے معارض نہیں۔ اقول یہ محض غلط ہے کیونکہ الہامی معنے کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف عیسی عم کے ہے اور معنی مذکور کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف کتابی کے ہے پس سخت تعارض و بین تخالف موجود ہے۔ مجھ کو سخت تعجب ہے آپ کی دیانت سے کہ آپ باوجود یکہ ضمیر موتہ کا مرجع عیسی ہونا اپنی کتب میں تسلیم کر چکے ہیں اور آیت و ان من اهل الكتاب كو صريحة الدلالة وفات عیسی پر کہتے ہیں پھر اس اقراری حق سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُم لے کے وعید سے نہیں ڈرتے ۔ قولہ کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہر نے والے زمانہ کا نام نہیں ہے۔ اقول یہ امر مسلم ہے بے شک زمانہ نام مقدار غیر قار کا ہے اور حال ایک فرد ہے زمانہ کا اور حد حقیقی حال کے باعتبار عرف کے یہی ہے کہ تکلم فعل کے پہلے کا زمانہ تو ماضی ہے اور تکلم مغل کے بعد کا زمانہ مستقبل ہے اور تکلم فعل کے مبدا سے منتہی تک زمانہ حال ہے اس بنا پر ظاہر ہے کہ استقبال قریب ہرگز حال نہیں ہوسکتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قول کے تکلم کا زمانہ بعد ہے زمان تکلم فلنو لینک سے پس اس کے استقبال ہونے میں کیا شک ہے۔ قولہ جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہو گئے اسی طرح وہ بھی قائل ہیں۔ اقول فرق نہ کرنا در میان سنہ مستقبل قریب و حال کے محصلین سے بعید ہے جیسا کہ ماہر علم نو پر بلکہ قاصرپر بھی مخفی نہیں ہے۔ قولہ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے مگر یہ کہاں سے ثابت ہے کہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے خاص ہے۔ اقول یہ کس نے کہا کہ یہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے ہی خاص ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفاء زمانہ آئندہ ہی میں ہوسکتا ہے نہ حال میں اور اس بات میں جو آپ نے طول کیا ہے اس کو اصل مطلب سے کچھ علاقہ نہیں اور ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے صرف بحث اس میں ہے کہ یہ سنت اللہ ان آیات وعد و وعید سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس کیلئے دوسری آیات دلیل ہیں۔ قولہ اب دیکھئے کہ ان آیات سے بھی آپ کا دعوی قطعية الدلالت ہونا آیت ليؤمنن به کا کس قدر باطل ثابت ہوتا ہے۔ اقول آیات منافی قطعية الدلالت ہو نے آیت ليؤمنن کے نہیں بلکہ آیت ليؤمنن آیات مذکورہ کے مخصص واقع ہوئی ہے۔ قولہ حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو۔ اقول یہ حصر غیر مسلم اور ہے کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَبَشَّرْتهُ بِخُلْمٍ حَلِيْمٍ غلام کے معنے کو دک صغیر کے ہیں کما فی الصراح پس محتمل ہے کہ علیم اس مقام پر ماخوذ علم سے ل النمل : ۱۵ - الصفت: ۱۰۲