اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 197

روحانی خزائن جلدم ۱۹۷ الحق مباحثہ دہلی کہ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کیلئے ہوگئی ہے۔ اقول یہ قول غلط محض ہے جمہور مفسرین (۲۷ صحابہ اور تابعین نے اس آیت کو ہرگز بمعنی حال یا استمرار نہیں لیا ہے اگر بچے ہو تو ثابت کرو رہی یہ بات کہ بعض مفسرین نے ضمیر کتابی کی طرف راجع کی ہے اس سے معنی حال یا استمرار لینا کسی طرح لازم نہیں آتا ہے سوائے آپ کے کوئی اہل علم ایسی بات منہ سے نہیں نکال سکتا علاوہ ازیں اس تقدیر پر بھی استقبال ہو سکتا ہے جیسا کہ آپ پہلی تحریر میں اقرار کر چکے ہیں۔ قوله ان معنوں پر زور دینے کے وقت آپ نے اس شرط کا کچھ خیال نہیں رکھا جو پہلے ہم دونوں کے درمیان قرار پا چکی تھی کہ قــال الــلــه وقــال الرسول سے باہر نہیں جائیں گے۔ اقول ایک قاعدہ نو بیا جماعیہ کو قال اللہ میں جاری کرنا قال اللہ سے کسی کے نزدیک خارج ہونا نہیں یہ صرف آپ کا اجتہاد ہے جس کا کوئی ثبوت آپ نہیں دے سکتے بلکہ یہ خروج بقول آپ کے آپ پر لازم آ گیا کیونکہ آپ خود ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۰۲ میں اسکے مرتکب ہوئے ہیں عبارت آپ کی یہ ہے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت فلما تو فیتنی سے پہلے یہ آیت ہے وَاذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ الخ ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اسکے اوّل اذہ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے انتھی ۔ آتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۲ ۔ قولہ اور نہ ان بزرگوں کی عزت و مرتبت کا کچھ پاس کیا جو اہل زبان اور صرف اور نحو کو آپ سے بہتر جاننے والے تھے۔ اقول آپ ایسی باتیں کرنے سے لوگوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں بھلا صاحب اس قاعدہ کے جاری کرنے سے ان بزرگوں کی عزت و مرتبت میں معاذ اللہ کس طرح نقصان آسکتا ہے ان کے کلام میں تصریح حال یا استمرار کی کہاں ہے یہ تو صرف آپ کا اجتہاد ہے۔ آپ اپنے ساتھ ان بزرگوں کو ناحق شریک کرتے ہیں۔ قولہ ہمارے اوپر اللہ و رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف و نحو کو اپنے لئے ایسار ہبر قرار دیں کہ باوجود یکہ اس پر کافی و کامل طور پر کسی آیت کے معنی کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف ونحو کو ترک نہ کریں۔ اقول یہ بات بھی آپ کی سراسر مغالطہ دہی پر مبنی ہے۔ کافی و کامل طور پر آیت کے معنے کا کھل جانا اور اس پرا کا بر مومنین اہل زبان کی شہادت کا ملنا غیر مسلم ہے و وجهـه مـر انفا فتذكر علاوہ اسکے آپ نے جو باوجود نہ کھلنے معنے آیت کے اور عدم شہادت اکا بر مومنین اہل زبان کے ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کا محض اپنی بات بنانے کی غرض سے انکار کیا ہے اس سے یہ احتمال قومی پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کو الزام علوم لغت وصرف ونحو معانی اصول فقہ واصول حدیث سے جو کہ خادم کتاب سنت ہیں دیا جاوے گا المائدة : ۲۱۱۷ البقرة: ۴۵