اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 196
روحانی خزائن جلده ۱۹۶ الحق مباحثہ دہلی (اقول ) یہ آپ کا سوء ظن ہے اور ہر مسلم مامور ہے اپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن کرنے کیلئے چہ جائیکہ آپ سا شخص مدعی الہام و مجددیت و مسیحیت آپ کو بالا ولی حسن نکن چاہئے میں نے صرف ایک امر نفس الامری کا اظہار کر دیا ورنہ میں تو بار ثبوت حیات اپنے ذمہ لے چکا ہوں اور اس کا ثبوت ایک قاعدہ نحویہ اجماعیہ کی بناء پر آپ کے روبرو پیش کیا گیا مگر افسوس کہ آپ نے اس قاعدہ اجماعیہ کے انکار میں کچھ حیاء کو کام نہ فرمایا اب میں اس قاعدہ سے قطع نظر کر کے عرض کرتا ہوں۔ بفضلہ تعالی میرا دعوی حیات مسیح آپ کے اقرار سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ بیان اس کا یہ ہے کہ آپ نے توضیح المرام وازالته الا وہام میں اس امر کا اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہ کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے راجع ہے اب آپ کو چاہئے قاعدہ نحو یہ اجماعیہ کو مانے یا نہ مانے ہر طرح میر امد عا ثابت ہے کیونکہ یا تو آپ ليؤمنن کو بمعنے استقبال لیجئے گایا بمعنے حال یا بمعنی استمرار یا بمعنی ماضی ۔ شق اول میں تو میرے مطلوب کا حاصل ہو نا محتاج بیان نہیں ہے۔ شق ثانی اول تو بدیہی البطلان ہے سوا اس کے مطلوب میرا اس سے بھی حاصل ہے کیونکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ نزول آیت میں سب اہل کتاب حضرت عیسی عم پر قبل ان کی موت کے ایمان لاتے تھے پس معلوم ہوا کہ زمان نزول آیت تک زندہ تھے اور رفع یقیناً اس سے پہلے ہوا تو معلوم ہوا کہ زندہ اٹھائے گئے وهـو الـمـطـلـوب ثق ثالث اول تو بدیہی البطلان ہے سوا اس کے اس شق مدعا کا ثبوت پر شق اول سے بھی زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس تقدیر پر یہ معنے ہوں گے کہ سب اہل کتاب زمانہ گزشتہ و حال و استقبال میں حضرت عیسی پر ان کے مرنے سے پہلے ایمان لاتے ہیں پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ زمانہ ماضی و حال میں زندہ تھے اور استقبال میں بھی ایک زمانہ تک زندہ رہیں گے رفع کے وقت زندہ تھے رابع باطل ہے اسلئے کہ ایسا مضارع کہ اس کے اول میں لام تاکید اور آخر میں نون تاکید ہو بمعنی ماضی کہیں نہیں آیا۔ آپ قواعد نحو کو مانتے ہی نہیں ہیں ایسے مضارع کا بمعنی ماضی آنا قرآن یا حدیث صحیح سے ثابت کیجئے و دونه خرط القتاد افسوس کہ آپکو جب الزام موافق قواعد نحو بہ اجماعیہ کے دیا جاتا ہے تو اسکو آپ تسلیم نہیں کرتے اور اگر آپکے مسلمات سے آپکو الزام دیا جاتا ہے تو بھی آپ قبول نہیں کرتے یہ امر اول دلیل ہے اس بات پر کہ آپکو احقاق حق اور اظہار صواب ملحو فانظر نہیں ہے۔ قولہ پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بینہ قرآن وحدیث سے نوامید ہوکر دوبارہ آیت ليؤمنن کے نون ثقیلہ پر زور دیا ہے۔ اقول خودآيت وان من اهل الكتاب صریح و بین ہے ۔ اور نون ثقیلہ کا بمعنی استقبال کر دینا اس کے قطعیت میں مخل نہیں ہے۔ قولہ اور جمہور مفسرین صحابہ اور تابعین سے تفرد اختیار کر کے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے