اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 195
روحانی خزائن جلدم ۱۹۵ الحق مباحثہ دہلی کے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وقت الہام سے مجھ کو یہ خیال ہے کہ مسیح فوت ہو گیا پس اسی وجہ سے آپ سے ثبوت مانگا جاتا ہے کہ آپ اپنے پہلے بیان کے مخالف دوسرا بیان کرتے ہیں اور اس دعوے میں ایک جدت ہے جسکے آپ خود قائل ہیں اور اگر قبل سے یہ خیال تھا تو اس خیال کا یقین قانون قدرت یعنی سنت اللہ و آیات قرآن کریم سے آپ کو حاصل ہو گیا تھا یا نہیں۔ ہر تقدیر اول آپ نے قبل الهام مذکور براہین وغیرہ میں اسکو کیوں نہیں ظاہر فرمایا اور اپنے پرانے باطل خیال پر با وجود یقین بطلان کے کیوں اڑے رہے اور بر تقدیر خانی بعد الہام کے اس خیال کا یقین آپ کو حاصل ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو صرف ایک ظنی یا شکی یا وہمی بات پر اصرار خلاف دیانت ہے اور اگر بعد الہام کے یقین اس خیالی وفات کا آپکو حاصل ہوا تو ظاہر ہے کہ مفید یقین اس وقت آپکا الہام ہوا نہ سنت اللہ و آیات قرآن کریم اور آپکا ملہم ہونا ابھی تک پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا اس تقدیر پر آپ پر واجب ہے کہ پہلے اپنا ملہم ہونا ثابت کیجئے پھر ہر الہام کا حجت ہونا ملہم و غیر ملہم پر ثابت کیجئے بعد اثبات ان دونوں امر کے دعوئی وفات مسیح اور اپنے مسیح موعود ہونے کا پیش کیجئے بغیر اسکے آپکا دعویٰ وفات مسیح و مسیح موعود ہونے کا عند العقلاء ہر گز لائق سماعت نہیں ہے ۔ سیوم اس مقام پر نصوص قرآنیه قطعی طور پر وفات مسیح پر دلالت کرتی ہیں یا نہیں بر تقدیر ثانی آپکا انکو صریحہ بینہ قطعیہ کہنا باطل ہے اور بر تقدیر اول لازم آتا ہے کہ آپکے نزدیک وہ سب صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمین الى يومنا جو حیات مسیح کے قائل ہیں اعاذنا اللہ منہ کا فر ہوں اور آپ خود بھی جس زمانہ میں اعتقاد حیات مسیح کا رکھتے تھے کا فر ہوں ۔ کیونکہ منکر نصوص صریحہ بینہ قطعیہ کا کافر ہوتا ہے۔ چہارم آپ نے جو تعریف مدعی کی بیان کی ہے یہ محض اپنی رائے سے بیان کی ہے یا کوئی دلیل کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اس کیلئے ہے یہ نہ سہی کوئی قول کسی صحابی یا تابعی یا کسی مجتہد یا کسی محدث یا فقیہ کا اسکے ثبوت کیلئے پیش کیجئے۔ پنجم یہ تعریف مدعی کی مخالف ہے اسکے جسکو علماء مناظرہ نے لکھا ہے۔ رشیدیہ میں ہے والمدعى من نصب نفسه لاثبات الحكم اى تصدى لان يثبت الحكم الجزي الذي تكلم به من حيث انه اثبات بالدليل او التنبيه مولانا عصام الملة والدين نے شرح رسالہ عضد یہ میں لکھا ہے المدعى من يفيد مطابقة النسبة للواقع اور یہ دونوں تعریفیں آپ پر صادق آتی ہیں اور آپکی تعریف مخالف ہے ان دونوں تعریفوں کے۔ (قوله) معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مولوی صاحب نے یہ دعویٰ تو کر دیا کہ ہم حیات جسمانی مسیح ابن مریم آیات قطعية الدلالت سے پیش کریں گے لیکن بحث کے وقت اس دعوئی سے نا امیدی پیدا ہوگئی اسلئے اب اس طرف رخ کرنا چاہتے ہیں کہ دراصل مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت کرنا ہمارے ذمہ نہیں۔ ۶۵