اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 192
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۹۲ الحق مباحثہ دہلی مقدار غیر قار کا نام ہے۔ پھر حال اپنے حقیقی معنوں کے رو سے کیونکر تحقق ہو کیونکہ جب زمانہ غیر قار ہے تو ماضی کے بعد ہر دم استقبال ہی استقبال ہے لیکن جب حال بولا جاتا ہے تو اس کے معنے ہرگز حقیقی نہیں لئے جاتے ۔ کیونکہ حقیقی معنوں کا مرا د رکھنا محال ہے اس وقت تک کہ ہم حال کا لفظ زبان پر جاری کریں کئی بار یک حصے زمانہ کے گذر جاتے ہیں پھر حال کا وجود کہاں اور کیونکر متحقق ہے بلکہ حال سے مراد مجازی طور پر وہ زمانہ لیا جاتا ہے جو ہماری نظر کے سامنے واقع ہے جو کسی دوسرے حصہ زمانہ میں تصور نہیں کیا گیا۔ اس صورت میں تو ہماری اور آپ کی نزاع لفظی ہی نکلی اور جس زمانہ کا نام ہم حال رکھتے ہیں اسی کا نام آپ نے مستقبل قریب رکھ لیا۔ اور اس اتفاق رائے سے ہمارا مدعا ثابت ہو گیا۔ ہاں اگر آپ کے نزدیک کوئی زمانہ حقیقی معنوں کے رو سے بھی حال ہے۔ تو پہلے مہربانی فرما کر وقت کی تعریف فرمائیے میں تو ابتدا سے یہ سنتا آیا ہوں کہ وقت کی تعریف یہی ہے کہ الوقت مقدار غیر قار ۔ یعنی وقت اسی مقدار کا نام ہے جس کو ذرہ قرار نہیں اب جب کہ وقت کو قرار نہیں تو حقیقی طور پر حال کیونکر پیدا ہوا۔ آپ سوچ کر جواب دیں اور شاہ ولی اللہ وغیرہ صاحبوں کا ترجمہ جو آپ نے پیش کیا ہے یہ ہمارے کچھ مضر نہیں ۔ جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہو گئے اسی طرح وہ بھی قائل ہیں اور آیت وَانْظُرْ إِلَى الهِكَ لا میں وہی ہماری طرف سے جواب ہے جو اس میں جواب ہے۔ قوله آیت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کے استمراری معنے پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اس جگہ عادت مستمرہ کا بیان کرنا مقصود نہیں یہ تو صرف وعدہ ہے اور امر موعود وعدہ کے بعد تحقق ہوتا ہے۔ اقول ۔ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے بلکہ یہ کہاں سے ثابت ہے کہ یہ وعدہ آ ۔ نے والے لوگوں کیلئے ہی خاص ہے اور اس نعمت سے وہ لوگ بے نصیب ہیں جو پہلے گزر چکے ہیں یا حال میں مجاہدہ میں لگے ہوئے ہیں حضرت یہ وعدہ بھی استمراری ہے جو از منہ ثلاثہ پر مشتمل ہے۔ اس میں آپ ضد نہ کیجئے اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو اس کے اس قانون قدرت سے جو مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مترتب ہوتی ہے محروم تصور نہ فرمائیے ورنہ مطابق آپ کے معنوں کے ہر یک زمانہ جو حال کے نام پر موسوم ہو گا اس نعمت سے بکلی محروم قرار دینا پڑے گا مثلاً ذرا غور کر کے دیکھئے کہ اس آیت کو نازل ہوئے تیرہ سو برس گزر گیا ہے اور کچھ شک نہیں کہ بر طبق مضمون اس آیت کے ہر یک جو اس عرصہ میں مجاہدہ کرتا رہا ہے وہ وعدہ لنهدينهم سے حصہ مقسومہ لیتا رہا ہے اور اب بھی لیتا ہے اور آئندہ بھی لے گا پھر آپ اس آیت کے استمراری معنوں سے جواز منہ ثلاثہ پر اپنا اثر ڈالتی چلی آئی ہے ا طه : ۹۸ ۲ العنكبوت: ۷۰