اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 187
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۸۷ الحق مباحثہ دہلی لوگ بلکہ نہایت کثرت سے لوگ اسی طرف گئے ہیں کہ آیت إلا ليؤمنن بہ میں موتہ کی ضمیر ۵۷ اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے اور اس کی مؤید قراءت قبل موتهم ہے۔ پھر تفسیر مدارک میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے و المعنى ما من اليهود والنصارى احد الا ليؤمنن قبل موته بعیسی و بانه عبدالله و رسوله وروى ان الضمير في به يرجع الى الله اوالى محمد صلى الله عليه و سلم والضمير الثاني الى الكتابی یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاری میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جو اپنی موت سے پہلے عیسی پر ایمان نہ لاوے اور اس کی رسالت اور عبدیت کو قبول نہ کرے اور یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر بہ کی اللہ کی طرف پھرتی ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے۔ ایسا ہی بیضاوی میں زیر آیت ليؤمنن بہ یہ تفسیر کی ہے۔ والمعنى ما من اليهود و النصارى احد الا ليؤمنن بان عيسى عبد الله و رسوله قبل ان يموت ۔۔۔۔ ويؤيد ذالك انه قرئ الا ليؤمنن به قبل موتهم ۔۔۔۔۔۔ وقيل الضميران لعيسى یعنی اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ یہود اور نصاری میں سے ایسا کوئی نہیں جو اپنی موت سے پہلے عیسی پر ایمان نہ لاوے اور قبل موتهم کی قراءت انہیں معنوں کی مؤید ہے اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیر میں عیسیٰ کی طرف پھرتی ہیں۔ اور تفسیر مظہری کے صفحہ ۷۳۱ اور ۷۳۲ میں زیر آیت موصوفہ یعنی لیو منن بہ کے لکھا ہے۔ روى عن عكرمة ان الضمير في به يرجع الى محمد صلى الله عليه وسلم وقيل راجعة الى الله عز وجل والمآل واحد فان الايمان بالله لا يعتد مالم يؤمن بجميع رسله والايمان بمحمد صلى الله عليه و سلم يستلزم الايمان بعيسى علیه السلام ۔ قبل موته ای قبل موت ذالک الاحد من اهل الكتب عند معائنة ملائكة العذاب عند الموت حين لا ينفعه ايمانه - هذا رواية على بن طلحة عن ابن عباس رضى الله عنهما قال فقيل لابن عباس أَرَأَيْتَ ان خرمن فوق بيت قال يتكلم (به) في الهواء فقيل أَرَأَيْتَ ان ضرب عنقه قال تلجلج لسانه والحاصل انه لايموت كتابي حتى يومن بالله عز وجل وحده لا شريك له وان محمدا صلى الله علیه و سلم عبده و رسوله وان عيسى عبدالله و رسوله قيل يومن الكتابي في حين من الاحيان ولو عند معاينة العذاب ۔۔۔۔ وقال الضميران لعيسى والمعنى انه اذا نزل ۔۔۔ امن به اهل الملل اجمعون ولا يبقى احد الا ليومنن به وهذا التاويل مروى عن ابي هريرة