اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 184
۱۸۴ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۵۴ ملک عرب میں جا کر مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ کس قدر پہلی زبانوں سے اب عربی زبان میں فرق آگیا ہے یہاں تک کہ اقعد کی جگہ اگر بولا جاتا ہے ایسا ہی کئی محاورات بدل گئے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ جس زمانہ میں صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے کیلئے توجہ کی گئی وہ زمانہ کس قدرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے فرق کر گیا تھا اور کیا کچھ محاورات میں تبدل واقعہ ہو گیا تھا۔ نحوی اور صرفی اس بات کے بھی تو قائل ہیں کہ باوجود ترتیب قواعد کے ایک حصہ کثیرہ خلاف قیاس الفاظ اور خلاف قیاس ترتیب الفاظ کا بھی ہے۔ جس کی حد بھی غیر معلوم ہے جو ابھی تک کسی قاعدہ کے نیچے نہیں آسکا۔ غرض یہ صرف اور نحو جو ہمارے ہاتھ میں ہے صرف بچوں کو ایک موٹی قواعد سکھلانے کیلئے ہے اس کو ایک رہبر معصوم تصور کر لینا اور خطا اور غلطی سے پاک سمجھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو بجز اللہ اور رسول کے کسی اور کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ نے ہمیں یہ فرمایا ہے فَإِنْ تَنَازَعْتُمُ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رد کرو ۔ اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ نہ کسی اور کو ۔ اب یہ کیونکر ہو سکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا حکم بنایا جائے ۔ کیا اس پر کوئی دلیل ہے۔ تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کی طرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔ آپ کو یادر ہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف ونحو غلطی سے پاک ہیں یا ہمہ وجودہ تم و کمل ہیں۔ اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے حجت شرعی نہیں میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آ جاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے برخلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کر رہا ہے اورا کا برصحا بہ اس پر شہادت دے رہے ہیں ۔ حضرت انسانوں کی اور کوششوں کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں آپ حدیث اور قرآن کو چھوڑ کر کسی جھگڑے میں پڑ گئے ۔ اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی کہ وہ سب تغییر آیت لیؤمنن بہ میں غلطی کرتے رہے ابھی میں انشاء اللہ القدیر آپ پر ثابت کروں گا کہ آیت لیؤمنن بہ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعية الدلالت ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کے قطعية الجهالت ہونے پر فتویٰ لکھا جائے اور نعوذ باللہ نبی معصوم ا النساء: ٦٠