اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 182
روحانی خزائن جلدم ۱۸۲ الحق مباحثہ دہلی (۵۲) مریم کی وفات پر دلائل لکھے ہیں یا اس کی وفات کی نسبت اپنا الہام بیان کیا ہے تو اس کو حقیقی طور پر مدعی ہونے سے کیا تعلق ہے۔ وہ تمام دلائل تو محض بطریق تنزل لکھے گئے جیسے ایک مدعا علیہ کسی مدعی کا افترا ظاہر کرنے کیلئے کسی عدالت میں ایسی سند پیش کر دیوے جس سے اور بھی اس مدعی کی پردہ دری ہو تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ در حقیقت اس پر وہ تمام ثبوت پیش کرنا واجب ہو گیا جو ایک واقعی اور حقیقی مدگی پر واجب ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اس مسئلہ شناخت مدعی و مدعا علیہ پر نظر غور نہیں کی۔ حالانکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جو قاضیوں اور حکام اور علماؤں کو دھوکوں اور لغزشوں سے بچاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مولوی صاحب نے یہ دعویٰ تو کر دیا کہ ہم حیات جسمانی مسیح ابن مریم آيات قطعية الدلالت سے پیش کریں گے۔ لیکن بحث کے وقت اس دعوے سے نومیدی پیدا ہوگئی اس لئے اب اس طرف رخ کرنا چاہتے ہیں کہ در اصل مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی ثابت کرنا ہمارے ذمہ نہیں۔ لہذا مولوی صاحب کو یادر ہے کہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ حقیقی اور واقعی طریق عدالت یہی ہے کہ جو شخص حیات غیر طبعی مسیح ابن مریم کا مدعی ہے اسی پر واجب ہے کہ وہ آیات قطعية الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ سے حضرت مسیح کی حیات جسمانی ثابت کرے اور اگر ثابت نہ کر سکے تو یہ اول دلیل ہوگی کہ مسیح فوت ہو گیا بلاشبہ قوانین عدالت کے رو سے حقیقی اور واقعی طور پر آپ مدعی ہیں کیونکہ طبعی اور مسلم امر کو چھوڑ کر ایک ایسا عقیدہ آپ نے اختیار کیا ہے جس کا مانا اور قبول کرنا محتاج دلیل ہے۔ لیکن کسی انسان کا اپنی عمر طبعی تک مرجانا اور صد ہا برس تک زندہ نہ رہنا محتاج دلیل نہیں بلکہ اس کے مرنے پر قانون قدرت اور سنت اللہ خود محکم دلیل ہے۔ غور فرما دیں کہ اگر مثلا کسی مفقود الخیر کی اٹھارہ سو برس تک خبر نہ ملے کہ وہ مرا ہے یا نہیں تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اب تک زندہ ہے اور کیا شریعت غزا محمد یہ کسی تنازع کے وقت اس کی نسبت وہی احکام صادر کرے گی جو ایک زندہ کی نسبت صادر کرنے چاہئے۔ بینوا توجروا۔ پھر اس کے بعد آپ نے نصوص صریحہ بینہ قرآن اور حدیث سے نومید ہو کر دوبارہ آیت ليؤمنن کے نون ثقیلہ پر زور مارا ہے اور جمہور مفسرین اور صحابہ اور تابعین سے تفر داختیار کر کے محض اپنے خیال خام کی وجہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ آیت بوجہ نون ثقیلہ کے خالص استقبال کیلئے ہوگئی ہے جس کے فقط یہی ایک معنے ہو سکتے ہیں کہ حضرت عیسی کے نزول کے بعد کسی خاص زمانہ کے لوگ سب کے