اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 181
روحانی خزائن جلدم ۱۸۱ الحق مباحثہ دہلی واد اب اس معیار کو نظر کے سامنے رکھ کر ہر یک منصف دیکھ لے کہ کیا واقعی طور پر حضرت مسیح ابن مریم اہ کے کی وفات کے بارے میں اس عاجز کا نام مدعی رکھنا چاہئے یا حضرت مولوی محمد بشیر صاحب اور ان کے ہم خیال مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب وغیرہ حیات جسمانی مسیح ابن مریم کے بارے میں مدعی ٹھہرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جو ہم مدعی کی تعریف ابھی بیان کر چکے ہیں یعنی یہ کہ حقیقی اور واقعی مدعی کیلئے ایسی حالت کا پایا جانا ضروری ہے کہ ایک صورت میں ایک بات کا علی وجہ بصیرت ہمیشہ کیلئے اقرار کر کے پھر دوسری صورت میں اس بات کا انکار کرے۔ یہ تعریف میرے پر صادق نہیں آ سکتی کیونکہ میرا بیان تو اس طرز پر نہیں کہ پہلے میں حضرت مسیح ابن مریم کی یہ غیر طبعی حیات قبول کر کے پھر اس سے انکار کر گیا ہوں تا بوجہ جدت دعوئی اور مخالفت پہلے اقرار کے بار ثبوت میرے پر ہولیکن مدعی ہونے کی یہ تعریف حضرت مولوی محمد بشیر صاحب اور ان کے گروہ پر صادق آتی ہے۔ کیونکہ پہلے ان کو اب تک اس بات کا اقرار ہے کہ یہ حیات مسیح کی جس کی نسبت دعوئی ہے ایک غیر طبیعی حیات ہے جو اللہ تعالیٰ کے عام قانون قدرت اور دائمی سنت اللہ سے مغائر ومخالف پڑی ہوئی ہے اور نہ صرف سنت اللہ کے مخالف بلکہ نصوص صریحہ بینہ قطعیہ قرآن کے بھی مخالف ہے کیونکہ قرآن کریم نے جو عام طور پر انسان کی بے ثبات ہستی کے بارے میں ہدایت فرمائی ہے وہ یہی ہے جو انسان اپنی عمر طبعی کی حد کے اندر مر جاتا ہے اور اگر جوانی اور درمیانی حالت میں نہیں تو ارذل عمر تک پہنچ کر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور زمانہ اس پر اثر کر کے اور انواع اقسام کے تغیرات اس پر وارد کر کے ارذل عمر تک اس کو پہنچاتا ہے یا وہ شخص پہلے ہی مر جاتا ہے۔ اس اقرار کے بعد مولوی صاحب موصوف اور ان کے گروہ کا یہ بیان ہے کہ مسیح ابن مریم جو انسان تھا اور انسانوں میں بلا کم و بیش داخل تھا اب تک نہیں مرا بلکہ صد ہا برس سے زندہ چلا آتا ہے بڑھا بھی نہیں ہوا اور نہ ارذل عمر تک پہنچا اور نہ زمانہ نے کچھ بھی اس پر اثر کیا سو مولوی صاحب موصوف نے پہلے جس بات کا اقرار کیا تھا اسی بات کا پھر انکار کر دیا۔ اس لئے حسب قاعدہ متذکرہ بالا حقیقی اور واقعی طور پر وہ مدعی ٹھہر گئے ۔ کیونکہ میں بیان کر چکا ہوں کہ حقیقی اور واقعی طور پر مدعی اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ کسی امر کی نسبت ایک صورت میں اقرار کر کے پھر دوسری صورت میں اسی امر کا انکار کر دیوے۔ کیا مولوی صاحب فقہ کے قوانین پر نظر ڈال کر یا دنیوی عدالتوں کے مقدمات پر نگاہ کر کے کوئی نظیر پیش کر سکتے ہیں کہ کسی شخص کو حقیقی طور پر مدعی تو کہا جائے مگر وہ اس تعریف سے باہر ہو۔ اور اگر اس عاجز نے مسیح ابن