اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 180
روحانی خزائن جلده ۱۸۰ الحق مباحثہ دہلی ۵۰ کر کے پھر کسی دوسری صورت اور دوسرے مقام میں اسی امر قبول کردہ کا انکار کر دیتا ہے سو وہ اپنے پہلے اقرار سے ہی پکڑا جاتا ہے اور اس مواخذہ کے لائق ٹھہر جاتا ہے کہ جس امر کو وہ کسی دوسری صورت یا دوسرے وقت اور مقام میں آپ ہی مانتا اور قبول کرتا تھا اب اس سے کیوں انکار کر کے ایک مستحدث اور نئے دعوے کی طرف رجوع کر گیا ہے سو واقعی اور حقیقی طور پر مدعی کالفظ اس شخص پر بولا جاتا ہے جو اپنے پہلے اقرار سے منحرف ہو کر ایک نئے اور جدید امر کا دعوی کرتا ہے اور اسی وجہ سے بار ثبوت اس پر ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے منہ کے اقرار سے ہی اپنی جدت دعویٰ کا قائل ہوتا ہے۔ یعنی اس نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہوا ہوتا ہے کہ یہ دعوی اس کا نیا ہے اور اس کے اس قدیم اقرار سے قطعاً مخالف ہے جس سے اب بھی اس کو انکار نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی کسی عدالت میں دعوی کرتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ہزار روپیہ قرضہ لینا ہے اور خود اس بات کا اقرار کر دیتا ہے کہ فلاں تاریخ میں نے اس کو بطور قرضہ روپیہ دیا تھا اور اس تاریخ سے پہلے میرا اس سے کچھ واسطہ نہیں تھا اور یہ میرا دعویٰ نیا ہے جو فلاں تاریخ سے پیدا ہوا سو اسی وجہ سے وہ مدعی کہلاتا ہے اور ثبوت اس کے ذمہ ہوتا ہے کہ وہ بعد اس اقرار کے کہ فلاں تاریخ سے پہلے فلاں شخص میرا قرض دار نہیں تھا پھر مخالف اپنے اس پہلے بیان کے یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں تاریخ سے وہ میرا قرض دار ہے پس اس سے عدالت اسی وجہ سے ثبوت مانگتی ہے کہ وہ اپنے پہلے بیان کے مخالف دوسرا بیان کرتا ہے اور اس کے دعوے میں ایک جدت ہے جس کا وہ آپ ہی قائل ہے کیونکہ وہ خود قبول کر چکا ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی گذرا ہے جب کہ وہ شخص جس کو اب مقروض ٹھہرایا گیا ہے مقروض نہیں تھا۔ سو اس اقرار کے بعد انکار کر کے وہ اپنی گردن پر آپ بار ثبوت لے لیتا ہے۔ غرض واقعی اور حقیقی طور پر اسی شخص کو مدعی کہتے ہیں جو ایک صورت میں ایک بات کا اقرار کر کے پھر اسی بات کا انکار کرتا ہے اور بار ثبوت اس پر اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے پہلے اقرار کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے تمام عدالتیں اسی اصول محاکم کو پکڑ کر مدعی اور مد عاعلیہ میں تمیز کرتی ہیں اگر یہ اصول مد نظر نہ ہو تو ایسا حاکم اندھے کی طرح ہوگا اور اس کو معلوم نہیں ہوگا کہ واقعی طور پر مدعی کون ہے اور مدعا علیہ کون ۔ خلاصہ کلام یہ کہ مدعی ہونے کی فلاسفی یہی ہے جو ہم نے اس جگہ بیان کر دی ہے اور ظاہر ہے کہ بار ثبوت اسی پر ہوگا جو واقعی اور حقیقی طور پر مدعی ہو یعنی ایسی حالت رکھتا ہو کہ ایک صورت میں ایک بات کا اقرار کر کے پھر دوسری صورت میں برخلاف اس اقرار کے بیان کرے۔