اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 173

روحانی خزائن جلدم ۱۷۳ الحق مباحثہ دہلی میں غیر صحیح جانتے ہیں اس کو بمقابلہ خصم صحیح بنا دیں یہ تو مناظرہ نہ ہوا محض مجادلہ ٹھہرا۔ قوله - پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ فَلَنُوَلْيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال مراد ہے۔ اقول قرآن مجید میں فلنولینک ہے نہ ولنولینک جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں یہاں ارادہ حال غلام محض ہے بلکہ یہاں خالص مستقبل مراد ہے بچند وجوہ۔ اول یہ کہ بیضاوی میں مرقوم ہے فــــــــول و جھک اصرف و جهک شطر المسجد الحرام نحوه - عبدالحکیم اصرف وجھک کے تحت میں لکھتے ہیں ولـم يـجـعـلـه من المتعدى الى المفعولين بان يكون شطر مفعوله الثاني لان ترتبه بالفاء وكونه انجازا للوعد بان الله تعالى يجعل النبي مستقبلا القبلة او قريبا من سمتها بان يامر بالصلوة اليها يناسبه ان يكون النبي مامورا بصرف الوجه اليها لا بان يجعل نفسه مستقبلا اياها او قريبا من جهتها - انتھی۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے قول فلنولینک میں وعدہ فرمایا۔ اور فول وجھک کے ساتھ اس کا انجاز کیا۔ دوم یہ کہ اگر یہاں حال مراد لیا جائے تو فلنو لینگ کے یہ معنے ہوں گے پس البتہ پھیرتے ہیں ہم تجھ کو اور پھیر نے سے یہ تو مراد ہی نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کے قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھیرنے کا حکم کرتے ہیں۔ اس تقدیر پر قول الله تعالی کا فول وجهک زاید ولا طائل ہوگا۔ سوم یہ کہ شاہ ولی اللہ صاحب و شاہ رفیع الدین صاحب و شاہ عبد القادر صاحب نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنے مستقبل کیا ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ پس البتہ متوجہ گردانیم تراباں قبله که خوشنود شوی۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ پس البتہ پھیریں گے ہم تجھ کو اس قبلہ کو کہ پسند کرے اس کو ۔ لفظ شاہ عبد القادر کا یہ ہے۔ سوالبتہ پھیریں گے تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے۔قولہ اور ایسا ہی یہ آیت وَانْظُرُ إِلَى الهِكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا لتحرقته اقول ارادہ حال اس آیت میں غلط ہے بدو وجہ اول یہ کہ آیت میں وعید ہے اور جس چیز کی وعید کی جاتی ہے وہ اس کے بعد تحقیق ہوتی ہے۔ پس استقبال یہاں متعین ہوا۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ سے معنے استقبال واضح ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ البتہ بسوز انیم آنرا پس پراگندہ سازیم آنرا۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ ابھی جلاویں گے ہم اس کو پھر اڑ اویں گے ہم اس کو ۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے۔ ان دونوں آیتوں میں جو مرزا صاحب نے حال کے معنی سمجھے تو منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ استقبال دو طرح کا ہوتا ہے ایک استقبال قریب دوسرا استقبال بعید مرزا صاحب استقبال قریب کو قرب کی وجہ سے حال سمجھ گئے ہیں وهذا بـعـيـد مـن البقرة : ۱۴۵ ۲ طه : ۹۸