اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 168
۱۶۸ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلده (۳۸) اس کے آپ کے دل میں یہ خیال ہے کہ اس رفع سے رفع مع الجسد مراد ہے کیونکہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ لے کے ضمیر کا مرجع بھی روح مع الجسد ہے۔ لیکن حضرت آپ کی یہ تخت غلطی ہے۔ نفی قتل اور نفی مصلوبیت سے تو صرف یہ مدعا اللہ جل شانہ کا ہے کہ مسیح کو اللہ جل شانہ نے مصلوب ۔ ہونے سے بچا لیا اور آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " اس وعدہ کے ایفا کی طرف اشارہ ہے جو دوسری آیت میں ہو چکا ہے اور اس آیت کے ٹھیک ٹھیک معنے سمجھنے کیلئے اس آیت کو بغور پڑھنا چاہئے ۔ جس میں رفع کا وعدہ ہوا تھا اور وہ آیت یہ ہے یعنی انّی مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى حضرت اس رافعک الی میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا تھا یہ وہی وعدہ ہے جو آیت بل رفعه الله اليه میں پورا کیا گیا اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال کر دیکھئے کہ اس کے پہلے کون لفظ موجود ہیں تو فی الفور آپ کو نظر آ جائے گا کہ اس سے پہلے انی متوفیک ہے اب ان دونوں آیتوں کے ملانے سے جن میں سے ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفا ء وعدہ کی آیت ہے آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسی میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی جاتی ہے نہ کہ جسم ۔ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جو لوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اسی قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر گئے جیسا کہ اس آیت میں بھی ہے یا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلَى فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتی ہے اور جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے إِنا لله وإنا إليه راجعون چوتھی دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ اللہ جل شانه فرماتا ہے وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا۔ اس جگہ بھی آپ مان گئے ہیں کہ یہ آیت آپ کے مطلب پر قطعية الدلالت نہیں ہے۔ لیکن میں آپ کو محض اللہ یاد دلاتا ہوں کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں ایک فرقہ صدوقی نام تھا جو قیامت سے منکر تھے پہلی کتابوں میں بطور پیشین گوئی کے لکھا گیا تھا کہ ان کو سمجھانے کے لئے مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوگی اور یہ ان کے لئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ دوسری آیت میں فرماتا ہے وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ : ال النساء : ۱۵۸ ۳ ال عمران : ۵۶ ۴ الفجر: ۲۸ تا ۳۱ ۵ الزخرف ۶۲ ۲ مریم ۲۲