اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 167

۱۶۷ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثہ دہلی فرماتا ہے۔ يُعِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا ﴿۳۷﴾ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ " اب دیکھئے کہ قرآن کریم میں الله جل شانہ کا صاف وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تک دونوں فرقے متبعین اور کفار کے باقی رہیں گے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ درمیان میں کوئی ایسا زمانہ بھی آوے کہ کفار بالکل زمین پر سے نابود ہو جائیں۔ پھر الله جل شانہ فرماتا ہے۔ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ یعنی قیامت کے دن تک ہم نے یہود اور نصاری میں عداوت ڈال دی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے بھی ایک فرقہ ان دونوں میں سے نابود ہو جائے تو پھر عداوت کیونکر قائم رہے گی ۔ حضرت ان نصوص صریحہ بینہ سے تو صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کفر کو اختیار کرنے والے قیامت کے دن تک رہیں گے ۔ پھر اس کے یہ معنی کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ کچھ سوچ کر جواب دیں۔ دوسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ يُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا " اور آپ کھل کے لفظ سے درمیانی عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں۔ مگر یہ میچ نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں کھل کے معنے جو ان مضبوط کے لکھے ہیں اور یہی معنے قاموس اور تفسیر کشاف وغیرہ میں موجود ہیں اور سیاق سباق آیات کا بھی انہیں معنوں کو چاہتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ کا اس کلام سے مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے خوردسالی کے زمانہ میں کلام کر کے اپنے نبی ہونے کا اظہار کیا پھر ایسا ہی جوانی میں بھر کر اور مبعوث ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا سو کلام سے مراد وہ خاص کلام ہے جو حضرت مسیح نے ان یہودیوں سے کیا تھا جو یہ الزام ان کی والدہ پر لگاتے تھے اور جمع ہو کر آئے تھے کہ اے مریم تو نے یہ کیا کام کیا۔ پس یہی معنے منشاء کلام الہی کے مطابق ہیں اگر ادھیڑ عمر کے زمانہ کا کلام مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ آیت نعوذ باللہ اخو ٹھہرتی گویا اس کے یہ معنے ہوتے کہ مسیح نے خوردسالی میں کلام کی اور پھر پیرانہ سالی کے قریب پہنچ کر کلام کرے گا اور درمیان کی عمر میں بے زبان رہے گا مطلب تو صرف اتنا تھا کہ دو مرتبہ اپنی نبوت پر گواہی دے گا منصف کیلئے صرف ایک بخاری کا دیکھنا ہی کافی ہے۔ پھر جس حالت میں آپ خود مانتے ہیں کہ یہ آيت قطعية الدلالت نہیں اور جس آیت کا سہارا اس کو دیا گیا تھا وہ آپ کی مخالف ثابت ہوگئی تو پھر سیہ آیت جو خود آپ کے اقرار سے قطعية الدلالت نہیں کیا فائدہ آپ کو پہنچا سکتی ہے۔ تیسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ سورت نساء میں ہے وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا " آپ اس میں بھی قبول کرتے ہیں کہ یہ آیت قطعية الدلات نہیں مگر باوجود ال عمران ۵۶ ۲ المآئدة : ۱۵ ۳ ال عمران : ۴۷ ۲ النساء : ۱۵۹،۱۵۸