اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 165

ܬܪܙ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی جگہ خالص طور پر استقبال کے معنے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ تمام مفسر قدیم وجدید جن ۳۵۶ میں عرب کے رہنے والے بھی داخل ہیں لیؤمنن کے لفظ میں حال کے معنے بھی کرتے ہیں۔ معالم وغیرہ تفسیریں آپ کو معلوم ہیں حاجت بیان نہیں وہ لوگ بھی تو آخر قواعد دان اور علم ادب اور محاورہ عرب سے واقف تھے۔ کیا وہ آپ کے اس جدید قاعدہ سے بے خبر رہے۔ اور آپ نے تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے جولکھا ہے کہ نزول عیسی ہوگا اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہو گا جو اس کے نزول کے بعد اس پر ایمان نہیں لا دے گا یہ بیان آپ کیلئے کچھ مفید نہیں۔ اول تو آپ سے آیات قطعية الدلالة اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ کا مطالبہ ہے اور پھر اس قول کو مانحن فیه سے تعلق کیا ہے نزول سے کہاں سمجھا جاتا ہے جو آسمان سے نزول ہو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ ے کہ ہم نے لوہا اتارا ہم نے لباس اتارا ہم نے یہ نبی کے اتارا ہم نے چار پائے سے گھوڑے گدھے وغیرہ اتارے۔ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ یہ سب آسمان سے ہی اترے تھے ۔ کیا کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ سب در حقیقت آسمان سے ہی اترے ہیں۔ پھر ہم نے تسلیم کیا کہ بخاری و مسلم وغیرہ میں نزول کا لفظ آیا ہے۔ مگر حضرت میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ اس لفظ سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں مسافر کے طور پر جو ایک شخص دوسری جگہ جاتا ہے اس کو بھی نزیل ہی کہتے ہیں۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ آپ اس عاجز کے اعتراضات کو جو ازالہ اوہام میں آیا تھا موصوفہ بالا کے ان معنوں پر وارد ہوتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اٹھا نہیں سکے بلکہ رکیک عذرات سے میرے اعتراضات کو اور بھی ثابت کیا۔ آپ کے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہو چکا اور لیؤمنن کے لفظ کی تعمیم بدستور قائم رہی اب فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ حضرت عیسی کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے جیسا کہ ابو مالک سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں کہ یہ معنے کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ آپ تسلیم کر چکے ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے نزول کے بعد ہزار ہا لوگ کفر کی حالت میں مریں گے۔ اب اگر آپ ان کفار کو جو کفر پر مر گئے مومن ٹھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعوے پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے۔ حدیث میں تو صرف کفر پر مرنا ان کا لکھا ہے یہ آپ نے کہاں سے اور کس جگہ سے نکال لیا ہے کہ کفر پر تو مریں گے مگر ان کو حضرت عیسی کی رسالت پر یقین ہوگا اور کس نص قرآن یا حدیث سے آپ کو معلوم ہوا کہ اس جگہ ایمان قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا قَدْ انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الْأَنْعَامِ ثَمُنِيَةَ أَزْوَاجِ الحديد: ٢٦ الاعراف: ۲۷ الطلاق : ۱۱-۱۲ الزمر: