اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 156

روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی مستقبل سے وابستہ کرتا ہے۔ دوم یہ کہ اس تعمیم کے موافق آپ کے معنی اول جواز التہ الا و ہام میں لکھے گئے ہیں بھی باطل ہوئے جاتے ہیں کیونکہ آپ کے نزدیک لفظ اہل کتاب کا آیت موصوفہ میں ان سب اہل کتاب کو بھی شامل ہے جو مسیح کے وقت میں ان کو صلیب پر چڑھانے سے پہلے موجود تھے حالانکہ ان کا بیان مذکورہ بالا پر ایمان رکھنا قبل اس کے کہ وہ اس پر ایمان لاویں کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا غیر متصور ہے اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنے بھی باطل ہوئے جاتے ہیں۔ وهذا غير خفی على من له ادنى تأمل۔ اعتراض دوم احادیث صحیحہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے فقط جواب اس کا بدو وجہ ہے۔ اول یہ کہ آیت میں کہیں تصریح اس امر کی نہیں ہے کہ مسیح کے آتے ہی سب اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آویں گے بلکہ آیت میں تو صرف اسی قدر ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے۔ پس ہو سکتا ہے کہ جن کفار کا علم الہی میں مسیح کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا مقدر ہو ان کے مرنے کے بعد سب اہل کتاب ایمان لے آویں۔ دوم ہوسکتا ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہو نہ ایمان شرعی جیسا کہ آپ کے دونوں معنے کے موافق ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں ہے بلکہ یقین مراد ہے۔ اعتراض سوم ۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ دجال بھی اہل کتاب میں سے ہوگا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا فقط اس کا جواب بھی انہیں دو وجہوں سے ہے جو اعتراض دوم کے جواب میں لکھی گئیں اعادہ کی حاجت نہیں۔ اعتراض چہارم ۔مسلم میں موجود ہے کہ میچ کے بعد شریر رہ جائیں گے پھر قیامت آئے گی اگر کوئی کا فرنہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آجاویں گے فقط ۔ یہ اعتراض جناب مرزا صاحب کی شان سے نہایت مستبعد ہے کیا مرزا صاحب یہ نہیں خیال فرماتے کہ یقینا دنیا میں ابتداء ایک ایسا زمانہ بھی ہو چکا ہے کہ کوئی کافر نہ تھا پھر یہ کفار جو اب تک موجود ہیں کہاں سے آگئے جیسے یہ کفار ہو گئے ایسا ہی بعد عیسی علیہ السلام کے بھی ہو جائیں گے۔ دلیل دوسری یہ آیت سورہ آل عمران کی ہے۔ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَ مِنَ الصلِحِينَ اس آیت سے علماء نے استدلال حیات مسیح پر کیا ہے تفسیر ابوالسعود میں ہے و به استدل على انه عليه السلام سينزل من السماء لما انه عليه السلام رفع قبل التكهل الله عنه ارسله الله تعالى وهو ابن ثلاثين سنة ومكث في رسالته ثلثين شهرا ثم رفع الله تعالى اليه تفسیر کبیر میں ہے قال الحسين بن الفضل قال ابن عباس رضی ال عمران: ۴۷