اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 155
روحانی خزائن جلدم ۱۵۵ الحق مباحثہ دہلی کا مصدر ہوا ہے کیونکہ لیؤمنن میں لام مکسورہ لام الامر سمجھا ہے حالانکہ قرآن خواں اطفال بھی جانتے ۲۵ ہیں کہ قرآن مجید میں لام مفتوحہ لام تاکید ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے تسلیم کر لیتا ہے یعنی یہ جملہ خبریہ ہے تو اس وقت ليؤمنن خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا ہے اس لئے یہ معنے غلط ہوئے اور وہ معنے اس آیت کے جو خاکسار نے اول بیان کئے سلف میں سے ایک جماعت کثیر اسی طرف گئی ہے ان میں سے ہیں ابو ہریرہ اور ابن عباس اور ابو مالک اورحسن بصری وقتاده وعبد الرحمان بن زید بن اسلم تفسیر ابن کثیر میں ہے حدثنا ابن بشار حدثنا عبد الرحمن عن سفيان عن ابى حسين عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى بن مريم وقال العوفي عن ابن عباس مثل ذلك قال ابو مالک فی قوله الا ليؤمنن به قبل موته قال ذلک عند نزول عیسی بن مریم علیه السلام لايبقى احد من اهل الكتاب الا امن به وقال الضحاك عن ابن عباس وان من اهل الكتاب الاليومنن به قبل موته یعنی الیهود خاصة وقال الحسن البصرى يعنی النجاشی و اصحابه رواهما ابن ابی حاتم وقال ابن جرير حدثني يعقوب حدثنا ابن علية حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى وانه لحى الآن عند الله و لكن اذا نزل آمنوا به اجمعون و قال ابن ابی حاتم حدثنا ابى ۔ حدثنا على بن عثمان اللاحقى حدثنا جريرية بن بشير قال سمعت رجلا قال للحسن یا ابا سعید قول الله عزوجل وان من اهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته قال قبل موت عيسى ان الله رفع اليه عيسى وهو باعثه قبل يوم القيمة مقاماً يومن به البرو الفاجر و كذا قال قتادة وعبدالرحمن بن زید بن اسلم وغير واحد وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع انشاء الله و به الثقة وعليه التكلان انتھی ۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس طرف جانا حدیث صحیحین سے ظاہر ہے مخفی نہ رہے کہ جناب مرزا صاحب نے اس معنی پر جس کو ہم نے صحیح اور حق کہا ہے۔ ازالتہ الا و ہام کے صفحہ ۳۶۸ ۔ اور صفحہ ۳۶۹ میں چار اعتراض کئے ہیں ان سب کا جواب مسکت بفضلہ تعالیٰ ہمارے پاس موجود ہے ۔ اعتراض اول آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائد ولیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانے سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ فقط جواب اس کا بدو وجہ ہے اول یہ کہ آیت میں نون تاکید تقبیلہ موجود ہے جو آیت کو خاص زمانہ