اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 154
۱۵۴ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۲۳ تصریح امر مذکور کی ہو تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کرلوں گا بعد اس تمہید کے میں کہتا ہوں کہ لفظی ترجمہ اس آیت کا یہ ہوا اور نہیں ہوگا اہل کتاب میں سے کوئی مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ حضرت عیسی کے پہلے مرنے حضرت عیسی سے اور حاصل ترجمہ یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ سب اہل کتاب اس میں حضرت عیسی علیہ السلام پر حضرت عیسی علیہ السلام کے مرنے سے پہلے ایمان لاویں گے یہی ایک معنی اس آیت کے موافق محاورہ عرب و قواعد نحو اور محاورہ کتاب وسنت کے صحیح ہیں اور اس کے ماعدا اجتنے معنے ہیں سب غلط اور باطل ہیں کیونکہ کسی معنی کی بنا پر لیو مِنَنَّ کا لفظ خالص استقبال کیلئے نہیں باقی رہتا وہ چار معانی ہیں۔ اول وہ جو عامہ تفاسیر میں منقول ہے کہ موتہ کے ضمیر کتابی کی طرف عائد ہے اور معنے یہ ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لاتا ہے حضرت عیسی پر اپنے مرنے سے پہلے یعنی نزع روح کے وقت اس تقدیر پر لیسلز منسن کا خالص استقبال کیلئے نہ ہونا ظاہر ہے اس لئے یہ معنے باطل ہیں۔ دوسرے معنے وہ ہیں جو جناب مرزا صاحب نے کشفی طور پر ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۷۲ میں لکھے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر اہل کتاب ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے ایمان رکھتا ہے قبل اس کے کہ وہ ایمان لاوے کہ مسیح اپنی موت سے مر گیا فقط ۔ یہ معنے بھی بسبب اس کے کہ اس تقدیر پر ليؤمنن خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا ہے باطل ہیں اور اس معنے کشفی کے بطلان کے اور بھی وجوہ ہیں مگر ان کو اس بحث سے علاقہ نہیں ہے اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے انشاء اللہ تعالیٰ ان وجوہ کا ذکر ازالہ اوہام کے رد میں بہ بسط بسیط کیا جائے گا۔ تیسرے وہ معنی ہیں جو جناب مرزا صاحب نے ازالہ الا و ہام کے صفحہ ۳۸۵ میں لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک وشبہ کے یہودو نصاری کے دلوں میں چلے آتے ہیں فقط ۔ یہ معنی بھی اسی وجہ سے باطل ہیں کہ لیؤمنن اس تقدیر پر خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا بلکہ ماضی کیلئے ہو جاتا ہے چوتھے وہ ہیں جو مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوئی مرید تخلص مرزا صاحب نے القول الجمیل کے صفحہ ۲۸ میں لکھے ہیں وہ یہ ہیں اور ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کیلئے ضروری ہے کہ اس بات کو اپنے مرجانے سے پیشتر ہی تسلیم کرے فقط ۔ اس عبارت کا مطلب اگر یہ ہے کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے ہی تسلیم کرے یعنی یہ جملہ انشائیہ ہے جیسا کہ بعض عبارات القول الجميل اس پر قرینہ ہے تو اس معنے کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجميل اس مقام پر غلط فاحش