اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 139

۱۳۹ روحانی خزائن جلده الى الله أشـكـو قـارعـاتٍ تصيبني ۲۴ من الدهر قد ضاقت بها سَعَة اللَّحْبِ ومـن مـفتــريــر مـی بــانواع تهمة ۲۵ وتلبيس مُغتاب ومستهزء سبّ وعلماء السُّوء يدعون اسوة ٢٦ على فرط جهل بالحقائق والكتب عمائم والجبات والقمص واللحى | ۲۷ بها فخرهم لكنها الجهل لا تخبى يبـكـم سـمـع الـيـلـمـحــى حـديثهم ۲۸ ورؤيتهـم تـقــذى بها عين ذى لبّ فوالله انــی مــا هجرت خلاطهم ۲۹ الغيـر جـفـاء ليس من شيمة النُّحب وجهلهم المزرى بـعـلمى ولومهم ۳۰ ورغبتهم فـيـمـا يـنـاسـب بـالوغب یلوموننی انی اعاف لقائهم ۳۱ وكيف ألاقى جاهلا ليس من حزبى فكم بين ذي لب اديب وجاهل ۳۲ وشتان بين الماجد الحرّ والوشب من الجهل ان تلقی و تکرم جاهلا | ۳۳ للحيته اوجبة او عـظـم الـسـب عــذيـــرى من الايام من جوراهلها ۳۴ اقاموا جبـال الـفـادحات على قلبي ۲۴۔ زمانہ کے مصائب سے جنہوں نے میرے وسیع سینہ کو بھی تنگ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکوہ کرتا ہوں۔ ۲۵ ۔ اور اس مفتری سے جو طرح طرح کی تہمتیں لگاتا ہے اور غیبت کر نیوالے کے دھوکے اور ٹھٹھہ باز گالی ☆ دینے والے سے۔ ۲۶۔ اور برے عالموں سے جو باوجود حقائق و معارف وعلوم کے نہ جاننے کے اپنے تئیں نمونے سلاتے ہیں۔ ۲۷۔ آجا کے انکا مایہ ناز عما ہے۔ ہے قمیصیں اور ڈاڑھیاں ہیں۔ مگر ان سے جہل کیونکر چھپ جائے۔ ۲۸۔ سمجھدار ان کی گفتگو کوسننا گوارا نہیں کرتا۔ اور دانشمندان کے دیکھنے سے گھن کرتا ہے۔ ۲۹۔ بخدا میں نے جو ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تو ان کی جفا کے باعث جو شریفوں کا شیوہ نہیں۔ ۳۰۔ اور ان کے جہل کے باعث جس کی وجہ سے وہ میرے علم کو حقیر جانتے اور ان کی فروما ئیگی اور رذیلوں کیسی عادات سے مانوس ہونے کے باعث ۔ ۳۱۔ وہ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ میں انہیں دیکھنا روا نہیں رکھتا ۔ بیج ہے۔ میں کیونکر جاہل سے ملوں جو میری جماعت سے نہیں۔ ۳۲۔ دانا ، ادیب اور جاہل، نجیب و شریف اور کمینے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ۳۳ کسی جاہل سے ملنا اور اسکی بڑی پگڑی اور لمبی ڈاڑھی اور جبہ کے باعث اس کی عزت کرنا بھی جاہل ہی کا کام ہے۔ ۳۴۔ زمانہ اور اہل زمانہ کے جور و جفا سے جو میں شکوہ کروں تو مجھے معذور رکھنا چاہیئے کیونکہ انہوں نے میرے دل پر مصائب کے پہاڑ رکھ دیئے ہیں۔ و من علماء السوء ”من “ سہو کا تب سے رہ گیا معلوم ہوتا ہے۔ (شمس)