اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 138

روحانی خزائن جلدم ۱۳۸ حفالتهم ابقيتُ فِيْهَا إِذَا مَضَوا ۱۵ فامسيـت احـيــى بالطعام وبالقحب بليت باهل الجهل ويل لأمهم ١٦ مضرتهم ادهى من الذئب والكلب يعادون اهل العلم والعلم كله لما همهم في لذة الفرج والشرب اقاسى الاذى من جهلهم ومرائهم ۱۸ وشدتهم بالسبع كالطعن والخلب على غربة فيها هموم و كربة ١٩ انواع اسقام و فقدا د اخى الحب ومالاقني في ذى البلاد مواسيا ٢٠ ولم يتيسر اسيــا مــن فــى نـدب وحيد واصـنـاف الـخُـطـوب ينوبني | ٢١ تعددت البلوى على عادم الصحب ارانى مع الاوغاد يستصحبونني ۲۲ أعلم غير الاهل القرد و الدب لقد ضاق صدري بالاقامة عندهم ۲۳ وسوء جوار العابس الوجه ذى قطب ۱۵۔ وہ برگزیدے تو چلے گئے اور میں روی سا پیچھے رہ گیا۔ اب کمینوں قلاشوں میں مجھے زندگی بسر کرنی پڑ گئی۔ ۱۶۔ جاہلوں سے میرا پالا پڑ گیا۔ اُن کی جننے والی پر افسوس ۔ یہ تو کتوں اور بھیڑیوں سے بھی بڑھ کر موذی ہیں۔ ۱۷۔ فسق و فجور اور مے خواری کے دل دادہ ہیں اس لئے علم اور اہلِ علم سے بیر رکھتے ہیں ۔ ۱۸۔ مجھے ان کے ناحق کے جھگڑے۔ جہالت اور گالی گلوچ سے سدا تکلیف رہتی ہے۔ ۱۹۔ مزیدے برآں پر دیں۔ اور پھر ہر طرح کے رنج و غم اور بیماریاں اور محبوں کا نہ ہونا۔ ۲۰۔ افسوس ان دیسوں میں مجھے کوئی غمخوار نہ ملا اور نہ کوئی جوانمرد فیاض غمگسار ہاتھ آیا۔ ۲۱ ۔ میں اکیلا ہوں اور اس پر طرح طرح کے مصائب مجھ پر پڑ گئے ہیں۔ جس کے دوست نہ ہوں اُس پر بہت سی مصیبتیں وارد ہوا ہی کرتی ہیں۔ ۲۲۔ میرا یہ حال ہو رہا ہے کہ فرومایہ لوگوں سے سنگت نصیب ہو رہی ہے۔ اور بندروں اور ریچھوں کے ایسے نا اہلوں کا معلم بنا ہوا ہوں۔ ۲۳ ۔ ان بد مزاج ۔ بدخو ۔ ترش رو ہم نشینوں میں رہنے اور اُن کی سنگت سے میرا دل اُکتا گیا ہے۔