اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 137
روحانی خزائن جلدم ۱۳۷ عدیم اصطبار وامق في الهوى صلب كذا حال مسلوب القرار متيم ٦ حليف الـضـنـي مستوحش ذى كآبة - طويل اغتراب نازح الاهل والحب هل العيش الا في وصال احبةٍ نأت دارهم لكن عن الجسم لا القلب ۹ فان بعدوا عنى فان حديثهم يخفف اشجاني وينهى عن النَّحب بـلانـي الليـالـي ويلها من صروفها | ١٠ بما صــرت فـيـه حائر الفكر و اللُّب والهي عن الانشاء والشعر بعدما تعوّدت شعرا والكتابة من طلبي کانی ماكنت امرأ ذافـطانـة ۱۲ ولا ورثت نفسي الفصاحة من كعب هموم و تنکید و اسر وغربة ١٣ وفى سفهاء الناس دار وهم كربي فقدت سروری مذ فقدت احبتى كرام أنـاس خـلـفـوا الهم في العَقْبِ ۔ عاشق بے قرار ۔ سوختہ دل ۔ بے صبر ۔ شیدا اور عشق میں ثابت قدم کا ایسا ہی حال ہوا کرتا ہے۔ ے۔ وہ عاشق جس نے بیماری سے دائمی دوستی کا عہد باندھ رکھا ہے۔ لوگوں کی صحبت سے گریزاں ۔ دکھی ۔ مدتوں کا مسافر ۔ اہل وعیال اور دوستوں سے جدا ہے۔ ۔ زندگی کا لطف تو بس ان پیاروں کی صحبت میں ہے جن کا وطن جسم سے دور پر قلب کے نزدیک ہے۔ ۔ وہ جو مجھ سے دور ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے کیونکہ ان کی پیاری باتیں میرے دکھ درد کو ہلکا کرتی اور مجھے گریہ وزاری سے روکتی ہیں۔ - 1 + مجھے جدائی کی راتوں نے سخت ستایا۔ ان کی گردشوں اور حادثوں پر افسوس ! میری تو اس میں عقل و فکر چکر کھا گئی ہے۔ 1۔ مجھے انشاء اور شعر گوئی سے بالکل غافل کر دیا حالانکہ شعر گوئی اور اعلی درجہ کا لٹریچر لکھنا تو میری عادت تھی ۔ ۱۲۔ اب میری یہ حالت ہے کہ گویا میں کبھی بھی زیرک شخص نہ تھا اور جیسے میں کعب ( صاحب قصیدہ بانت سعاد ) سے فصاحت کا وارث ہی نہیں ہوا۔ ۱۳ رنج و غم گرفتاری اور سفر میں مبتلا ۔ بیوقوف لوگوں میں مکان ہے جنکے ہاتھوں دُکھ سہہ رہا ہوں۔ ۱۴۔ میری خوشی اور عیش مفقود ہوگئی جب سے اپنے پیارے دوستوں سے جدا ہوا۔ وہ کیا ہی برگزیدہ لوگ تھے۔ ان کے پیچھے میرے حصہ میں تو اب غم ہی غم ہے۔