اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 135

روحانی خزائن جلدم ۱۳۵ الحق مباحثہ دہلی اب ہم ان تکفیر بازوں کو حضرت امام ابن قیم کے چند شعر سنا دیتے ہیں شاید ان میں کوئی خدا ترس ۵۶ بات کی تہ کو پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے ڈر جائے۔ (1) وَمِنَ الْعَجَائِبِ أَنَّكُمْ كَفَرْتُمْ أَهْلَ الحَدِيثِ وَشِيعَةَ الْقُرْآنِ (۲) الْكُفْرُحَقُ اللَّهِ ثُمَّ رَسُولِهِ بِالنَّصِ يَثْبِتُ لَا بِقَوْلِ فُلَانَ (۳) مَنْ كَانَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وَعَبْدُهُ قَدْ كَفَّرَاهُ فَذَاكَ ذُو الْكُفْرَانَ (٢) فَهَلُمَّ وَيَحْكُمُ نُحَاكِمُكُمْ إِلَى الله نَصَّينِ مِنْ وَحْـي وَمِنْ قُرآنِ (۵) وَهُنَاكَ يُعْلَمُ أَيُّ حِزْبَيْنِ عَلَى الـ كُفْرَانِ حَقَّاً أَوْ عَلَى الْإِيْمَانِ (1) فَلْيَهُنِكُمُ تَكْفِيرُ مَنْ حَكَمَتْ بِاسُ لَامِ وَأَيْمَانٍ لَهُ النَّصَّانِ (2) إِنْ كَانَ ذَاكَ مُكَفِّرًا يَا أُمَّةَ الـ عُدْوَان مَنْ هَذَا عَلَى الْإِيْمَانَ (۸) كَفَّرْتُمُ وَاللَّهِ مَنْ شَهِدَ الرَّسُو لُ بِأَنَّهُ حَقًّا عَلَى الْإِيْمَانِ (9) كَمْ ذَا السَّلَاعُبُ مِنْكُمُ بِالدِّينِ وَا لـ إِيمَانِ مِثْلَ تَلَاعُبِ الصِّبْيَانِ (١٠) خُسِفَتْ قُلُوبُكُمْ كَمَا خُسِفَتْ عُقُو لُكُمْ فَلَا تَزْكُوا عَلَى القُرْآنَ (11) يَا قَوْمُ فَانتَهُوا لَا نُفُسِكُمْ وَخَدُ لُوا الْجَهْلَ وَالدَّعْوَى بِلَا بُرْهَانَ (۱) بڑے تعجب کی بات یہ ہے کہ تم نے اہل حدیث اور اہل قرآن کی تکفیر کی ۔ (۲) تکفیر تو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے (تمہیں کا فر بنانے کا منصب کس نے دیا) وہ نص سے ثابت ہوتا ہے نہ فلان و بہماں کے قول سے۔ (۳) جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کا فرکہیں وہی کافر ہے۔ (۴) افسوس تم لوگوں پر ! تو اب آؤ ہم تم کتاب وسنت پر اپنے مقدمہ کو عرض کرتے ہیں۔ (۵) وہاں چل کر کھل جائے گا کہ واقعی ایمان پر کون ہے اور کفر پر کون ۔ (1) اُن لوگوں کا کافر کہنا جنکے ایمان و اسلام پر کتاب وسنت گواہی دیں تمہیں مبارک ہو۔ (۷) سرکشو! اگر ایسے برگزیدہ لوگ عاملین به کتاب اللہ کا فر ہیں تو پھر مومن کون ہے۔ (۸) اللہ کی قسم تم دلیری کر کے ایسے کی تکفیر کر رہے ہو جس کی نسبت رسول علیہ الصلوۃ والسلام گواہی دیتے ہیں کہ وہ واقعی مومن ہے۔ (۹) آؤ خدا کا خوف کرو کب تک بچوں کی طرح دین کو بازیچہ بنارکھو گے؟ (۱۰) تمہارے دل اور عقلیں گہنائی گئیں ہیں اب قرآن پر تو زیادت نہ کرو۔ (11) اے لوگو اپنی جان کے بچاؤ کے لئے بیدار ہو جاؤ اور اس جہل اور دعویٰ بلا دلیل کو چھوڑ دو۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على السيد الامين وعلى اله وصحبه اجمعين_عبدالكريم