اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 133
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳۳ الحق مباحثہ دہلی مولوی محمد بشیر صاحب نے کسی نیت پر اس میدان میں قدم رکھا ہو مگر ہم انھیں مبارک دیتے ہیں کہ انہوں نے ہند و پنجاب کے علماء کی طرف سے اپنے تئیں فدیہ دیا ہے واقعی وہ ایک زبردست کفارہ اپنے ہم پیشہ لوگوں کی طرف سے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس لق و دق بیابان میں جہاں کوئی جادہ نہ ملتا تھا اور نہ جہاں کوئی نقش پائے رہ م پائے رہ رواں ہی نظر آتا تھا اس نشان کی طرح کھڑا کیا جس سے مسافر سمت کا پتہ لگاتے ہیں اگر چہ اس میل ( نشان ) کو شعور نہ ہو کہ اس کا وجود اتنے بڑے فائدہ کا موجب ہے مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ شاید شاکر علیم خدا ان کو بوجہ دال علی الخیر ہونے کے واقعی فہم بھی عطا کر دے تو کہ وہ اس فرستاده خداوندی کو طوعا قبول کریں میرا پکا ارادہ تھا کہ میں معمولاً ان مضامین پر کچھ نوٹ یا ایک مختصر سار یو یو کرتا مگر میرے دلی دوست بلکہ مخدوم معظم مولوی سید محمد احسن صاحب نے مجھے اس فرض سے سبکدوش کر دیا انھوں نے جیسا اس خدمت کو ادا کیا ہے درحقیقت اُنہی جیسے فاضل اجل کا حصہ تھا۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء میرا یقین ہے کہ یہ ایسا نیک کام ان کے مبارک ہاتھ سے پورا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کے رفع درجات کے لئے ایک یہ ہی بس ہے مگر قوی امید ہے کہ ہمارے حضرت سید صاحب موصوف روح قدس سے موید ہو کر اور بھی بڑے مفید اور منتج ثواب کام کریں گے۔ الغرض مولوی محمد بشیر صاحب کے وجود کو ہم مغتنم سمجھتے ہیں جنہوں نے غیر ضروری مباحث اور بخلاف ایک پنجابی ملا کے لا طائل اصول موضوعہ کو چھوڑ کر اصل امر کو بحث کا تختہ مشق بنایا اور یوں خلق کثیر کے ہر روزہ انتظار جانکاہ کو رفع کر دیا گو اس پر بھی اس بات کے کہنے سے چارہ نہیں کہ ہدایت ایک منجانب اللہ امر ہے اور وہ سچا ہادی لا معلوم اسباب کے وسایط سے سعید ان از لی کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے مگر کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ راہ خوب صاف ہو گئی اور اس مضمون حیات و ممات مسیح کی بحث کی حجت قطعا و حکما تمام ہوگئی ۔ ہم کمال ہمدردی اور اسلامی اخوت کی راہ سے اہل دہلی کو اتنا کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ناحق کی ضد کو چھوڑ کر اس مامور من اللہ کو قبول کریں ورنہ ان کا انجام خطر ناک معلوم ہوتا ہے۔ میں کا پتے ہوئے دل سے انھیں اتنا کہنے سے رک نہیں سکتا کہ ان کا جامع مسجد دہلی میں حضرت مسیح موعود کے برخلاف چھ سات ہزار آدمی کا مجمع کر کے طرح طرح کی ناسزا حرکات کا مرتکب ہونا دیکھ کر مجھے یاد آگیا حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا وہ واقعہ جو کمالات عزیزی مطبوعہ دہلی میں لکھا ہے جناب مولانا شاہ عبد العزیز جو واسطے نماز جمعہ کے جامع مسجد میں تشریف لے جاتے تو عمامہ آنکھوں پر رکھتے ۔ ایک شخص فصیح الدین نام جا شخص فصیح الدین نام جو اکثر حضور میں حاضر رہتے تھے انہوں نے عرض کیا